مضامین بشیر (جلد 2) — Page 89
۸۹ مضامین بشیر زیادہ ہیں۔( یعنی کمشنری ملتان اور کمشنری راولپنڈی اور کمشنری لاہور کے اضلاع لا ہور اور سیالکوٹ اور گوجرانوالہ اور شیخو پورہ اور گورداسپور وغیرہ ) وہ سب بلا استثناء اور بشمول ان علاقوں کے جن کا ذکر ذیل کے فقرات نمبری ۳، ۴، ۵ میں آتا ہے مسلم پنجاب میں شامل رکھے جائیں۔خواہ اس کے لئے موجودہ ضلعوں کی حدود توڑنی پڑیں۔کیونکہ اگر صوبوں کی حدود توڑی جاسکتی ہیں تو اسی قسم کے دلائل کے ماتحت ضلعوں کی حدود کیوں نہیں توڑی جاسکتیں۔بہر حال مسلم اکثریت والے علاقے خواہ وہ کمشنریوں یا ضلعوں کی صورت میں ہوں جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے یا کہ تحصیلوں کی صورت میں ( مثلا ضلع امرتسر کی تحصیل اجنالہ۔اور ضلع جالندھر کی تحصیل ہائے جالندھر ونکو د راور ضلع فیروز پور کی تحصیل ہائے فیروز پور وزیرہ اور ضلع گوڑ گاؤں کی تحصیل ہائے فیروز پور جھر کا دلوح وغیرہ جن میں مسلمانوں کی کامل اکثریت ہے ) وہ لازما مسلم پنجاب کا حصہ رہنے چاہئیں۔(۳) جن علاقوں میں مسلمانوں کو کامل اکثریت تو حاصل نہیں مگر ہندوؤں اور سکھوں کے مجموعہ کے مقابل پر قطعی اکثریت حاصل ہے یعنی جن علاقوں میں یہ دونوں قومیں مل کر بھی مسلمانوں کی تعداد سے کم رہتی ہیں ( مثلا ضلع ہوشیار پور کی تحصیل ہائے ہوشیار پور ودسوہا وغیرہ جن میں مسلمانوں کی تعداد ہندوؤں اور سکھوں کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ ہے ) وہ بھی لازما مسلم پنجاب میں شامل رہنے چاہئیں کیونکہ انہیں علیحدہ کرنے کی کوئی جائز وجہ نہیں اور اگر عیسائیوں اور اچھوت اقوام کی رائے کے متعلق شبہ ہو تو وہ حصول رائے عامہ کے طریق پر معلوم کی جاسکتی ہے۔(۴) جن علاقوں میں مسلمانوں کو ہندوؤں اور سکھوں کے مجموعے کے مقابل پر تو اکثریت حاصل نہیں مگر وہ انفرادی لحاظ سے ہر دوسری قوم سے زیادہ ہیں۔یعنی وہ علیحدہ علیحدہ صورت میں ہندوؤں سے بھی زیادہ ہیں اور سکھوں سے بھی زیادہ ہیں اور علاقہ کی سب سے بڑی پارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں ( مثلا ضلع امرتسر کی تحصیل امرتسر اور ضلع لدھیانہ کی تحصیل لدھیانہ اور ضلع فیروز پور کی تحصیل ہائے فاضل کا اور مکتیسر اور ضلع انبالہ کی تحصیل انبالہ وغیرہ جن میں مسلمان انفرادی طور پر سب سے بڑی پارٹی ہیں) ایسے علاقہ بھی مسلم پنجاب کا حصہ بننے چاہئیں۔کیونکہ جب خود اپنے قول کے مطابق بھی ہندو اور سکھ دو علیحدہ علیحدہ تو میں ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ان دو قوموں کے عارضی سیاسی سمجھوتہ کی وجہ سے جو کل کوٹوٹ بھی سکتا ہے ، ان علاقوں کی سب سے بڑی پارٹی ( یعنی مسلمانوں ) کے مستقل حقوق کو پامال کیا جائے۔بے شک مغرب کی جمہوری حکومتوں میں بعض اوقات ایسا ہو جاتا ہے کہ دو اقلیت والی پارٹیاں با ہم سمجھوتہ کر کے ایک نسبتی طور پر اکثریت والی پارٹی پر غالب آ جاتی ہیں مگر وہاں ہر پارٹی کی بنیاد محض سیاسی مسلک پر ہوا کرتی ہے مگر یہاں قوموں کی تقسیم تہذیب و تمدن پر مبنی ہے۔پس