مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 1007 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 1007

مضامین بشیر ایک دلچسپ مثال حضرت نواب محمد علی خانصاحب مرحوم کے لڑکے میاں عبدالرحیم خان کی اس بیماری میں ملتی ہے جس میں وہ اکتو بر ۱۹۰۳ء میں مبتلا ہوئے اور جب حضرت نواب صاحب مرحوم کے اخلاص کو دیکھتے ہوئے حضرت مسیح علیہ السلام نے ان کی صحت کیلئے دعا فرمائی الہام ہوا کہ : ۱۴۱ تقدیر مبرم ہے اور ہلاکت مقدر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ جب یہ وحی نازل ہوئی تو مجھ پر حد سے زیادہ حزن طاری ہوا اور اس وقت بے اختیار میرے مونہہ سے نکل گیا کہ یا الہی اگر یہ دعا کا موقع نہیں تو میں شفاعت کرتا ہوں اس پر معا وحی ہوئی کہ : من ذالذى يشفع عنده الا باذنه۔۱۴۲ د یعنی خدا کی اجازت کے بغیر کون شفاعت کر سکتا ہے۔؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اس جلالی وحی سے میرا بدن کانپ گیا۔مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہاموں میں خدا تعالیٰ نے تقدیر مبرم کا نام دینے کے باوجود ٹل سکنے والی تقدیر قرار دیا ہے اور دراصل یہی وہ استثنائی قانون ہے جس کے ذریعہ خدا نے مومنوں کے عرفان اور ایمان کی ترقی کا رستہ کھول رکھا ہے ورنہ اگر یہ نہ ہو تو خدا کے متلاشی دنیا کے لق و دق صحرا میں تڑپتے ہوئے رہ جائیں اور انہیں اس مادی عالم کے دور آمیز دھند لکے میں ہدایت کی کوئی روشن کرن نصیب نہ ہو۔و آخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین۔( مطبوعه الفضل ۳۰ ستمبر ۱۹۵۰ء)