مضامین بشیر (جلد 2) — Page 88
مضامین بشیر ۸۸ اگر خدانخواستہ پنجاب تقسیم ہو تو۔۔۔؟ میں نے اپنے گزشتہ مضمون میں جس کا عنوان ” مسلمانوں کا مطالبہ پاکستان اور اس کے مقابل پر تقسیم پنجاب کا سوال تھا، بتایا تھا کہ پنجاب کی تقسیم کا مطالبہ کسی جہت سے بھی معقول یا منصفانہ مطالبہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک محض مصنوعی اور بناوٹی مطالبہ ہے جس کی تہہ میں صرف مسلمانوں کی مخالفت اور عداوت کا جذبہ کام کر رہا ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں۔لیکن میں نے ساتھ ہی کہا تھا کہ مسلمانوں کو ایک چوکس اور دور بین قوم کی طرح ہر امکانی خطرہ کے لئے تیار رہنا چاہئے۔سو میں ذیل کی سطور میں بتا نا چاہتا ہوں کہ اگر خدانخواستہ ایسے اسباب کے نتیجہ میں جو فی الحال ہماری طاقت سے باہر ہیں ، پنجاب کی تقسیم ناگزیر ہو جائے اور یونین سنٹر کے ساتھ کسی رنگ کا الحاق بھی پاکستان کے نظریہ کے خلاف سمجھا جائے تو ایسی مجبوری کی صورت میں جسے مسلمانوں کے سیاسی لیڈر تسلیم کر لیں ہمیں بعض شرائط کو بہر حال ملحوظ رکھنا چاہئے۔اور یہ شرائط میری رائے میں مندرجہ ذیل اصولوں پر طے ہو نی ضروری ہیں :- (۱) تقسیم بہر حال آبادی کی بناء پر ہونی چاہئے نہ کہ جائیداد وغیرہ کی بنا پر جس کی غیر معقولیت بلکہ بر بریت کے متعلق میں اپنے مضمون خالصہ ہوشیار باش، میں کسی قدر تفصیل کے ساتھ لکھ چکا ہوں اور آبادی کے اعداد و شمار پنجاب کی آخری مردم شماری سے لئے جائیں جو ۱۹۴۱ء میں ہوئی تھی۔گو یہ امر یقینی ہے کہ ۱۹۴۱ء کے بعد سے لے کر آج تک مسلمانوں کی آبادی اور بھی بڑھ چکی ہو گی۔جیسا کے وہ خدا کے فضل سے ہر دس سالہ مردم شماری میں برا بر بڑھتی ہے۔لیکن بہر حال اس کے بغیر چارہ نہیں کہ آخری با قاعدہ مردم شماری پر بنیا د رکھی جائے۔اور آج کل کی امن شکن فضاء تو نئی مردم شماری کی متحمل بھی نہیں ہے۔سوائے اس کے کہ مجبوری کی حالت میں تقسیم پنجاب کے متعلق کسی قوم کی رائے عامہ معلوم کرنے کی غرض سے محمد ود مردم شماری کی ضرورت پیش آجائے۔ایسی مردم شماری کی ضرورت جسے انگریزی میں ریفرنڈم کہتے ہیں۔بعض خاص خاص علاقوں میں اچھوت اقوام یا ہندوستانی عیسائیوں کے متعلق پیش آسکتی ہے اور ایسی ضرورت پیش آنے پر اس کا انتظام کرنا ہوگا۔(۲) جہاں تک تقسیم کے عملی پہلو کا تعلق ہے پنجاب کے جن علاقوں میں مسلمانوں کو آبادی کے لحاظ سے کامل اکثریت حاصل ہے یعنی جن علاقوں میں مسلمان باقی ساری قوموں کے مجموعے سے بھی