مضامین بشیر (جلد 2) — Page 974
مضامین بشیر ۹۷۴ مسنون دعا لکھی ہو تو کیا ہم اس پر بھی عمل نہ کریں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر کسی خط میں ایسی بات لکھی ہو کہ جو قرآن وحدیث سے صراحتہ ثابت ہے تو اس پر ضرور عمل کرو مگر اس لئے نہیں کہ یہ بات خط لکھنے والے نے لکھی ہے بلکہ اس لئے کہ اس کا حکم خدا اور اس کے رسول نے دیا ہے لیکن اگر اس میں کوئی ایسی عام قسم کی نیک بات لکھی ہو جو قرآن و حدیث میں صراحة مذکور نہیں تو بہتر یہ ہے کہ اس وقت اسے نظر انداز کر دیا جائے اور اس پر عمل نہ کیا جائے خواہ وہ بظاہر اچھی بات ہی ہو کیونکہ اس طرح دل میں ایک مخفی زنگ لگنے کا امکان ہے اور باطل تحریک کے ساتھ تعاون کا رنگ پیدا ہوتا ہے۔باقی رہا ایسے خطوں کے مضمون کو گمنام چھٹیوں کے ذریعہ آگے چلانا۔سو یہ بہر حال ایک لغوا اور بے ہودہ فعل ہے جس سے ہر حال میں پر ہیز لازم ہے اور ایسے خطوں کے لکھنے سے مخفی انعاموں کی امید رکھنا اور ان کے نہ لکھنے سے مصائب اور حوادث کا خوف کھانا تو ایک خطر ناک قسم کی تو ہم پرستی اور دماغی قمار بازی کے سوا کچھ نہیں۔جس سے ہمارے دوستوں کو اسی طرح دور بھاگنا چاہئیے جس طرح کہ وہ دوسری شیطانی تحریکوں سے دور بھاگتے ہیں۔لا حول ولا قوة الا بالله العظيم۔مطبوعه الفضل ۱۳ ستمبر ۱۹۵۰ء)