مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 956 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 956

مضامین بشیر ۹۵۶ سے قبول کر لے گا۔اور اس حصہ کو ترک کر دیا جائے جس کے متعلق انکار اور مخالفت کا اندیشہ ہو بلکہ ساری کی ساری صداقت پہنچائی جائے ورنہ ایسے شخص کے متعلق خدا کے دربار میں یہی لکھا جائے گا کہ اس نے خدا کا پیغام نہیں پہنچایا۔(۷) مبلغ کو اس تعلیم کا بہترین نمونہ بننا چاہئے جو وہ لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہے ورنہ اس کی تبلیغ با لکل بے اثر اور بے جان رہے گی۔اب رہا سوال اس مضمون کا دوسرا سوال کہ اسلام نے تبلیغ کے نتیجہ کا معیار کیا مقرر کیا ہے؟ یعنی کیا صرف نو مسلموں کی تعداد ہی وہ کسوٹی ہے جس سے ایک مبلغ کی کامیابی کو پر کھا جا سکتا ہے یا کہ قرآن شریف اس کے علاوہ کوئی اور معیار بھی پیش فرماتا ہے؟ سو اس کے متعلق اچھی طرح یا درکھنا چاہئے کہ گو طبعا انسانی فطرت ٹھوس اور معین نتائج سے زیادہ خوش ہوتی ہے اور مومنوں کی تعداد تو ایسی چیز ہے کہ اس کا خیال ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذہن سے بھی اوجھل نہیں تھا۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے۔کہ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ: انى مكاثر بكم الامم یعنی اے مسلمانو اپنی تعداد کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی کوشش کرو کیونکہ میں قیامت کے دن دوسری امتوں کے مقابل پر اپنی امت کی کثرت پر فخر کروں گا۔“ مگر پھر بھی اس بات میں شبہ نہیں کہ ہر حال میں نو مسلموں کی تعداد ہی تبلیغ کے نتیجہ کا صحیح معیار نہیں ہے۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ :- لم يصدق نبى من الانبياء ما صدقت و ان من الانبياء نبياً ما صدقه من امته الا رجل واحد ١٠٣ و یعنی مجھے سب دوسرے نبیوں میں سے زیادہ لوگوں نے قبول کیا ہے اور خدا کے نبیوں میں ایک نبی ایسا بھی گزرا ہے کہ اسے اس کی قوم میں سے ایک فرد واحد کے سوا کسی نے قبول نہیں کیا۔“ اس حدیث سے ظاہر ہے کہ ہر حال میں ماننے والوں کی تعداد ہی کسی مبلغ کی کامیابی کا آخری معیار نہیں ہوتی کیونکہ جب خدا کے نبی اور رسول بھی ایسے ہو سکتے ہیں جنہیں ایک ایک یا دو دو سے زیادہ لوگوں نے نہیں مانا اور دوسری طرف قرآن شریف فرماتا ہے کہ كَتَبَ اللهُ لَاغْلِبَنَ اَنَا وَ رُسُلی یعنی خدا کا یہ ازلی فیصلہ ہے کہ میں اور میرے رسول بہر حال غالب اور کامیاب ہوں گے تو اس سے ظاہر ہے کہ ہر حال میں ماننے والوں کی تعداد کو ہی غلبہ اور کامیابی کا معیار نہیں سمجھا ط