مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 943 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 943

۹۴۳ مضامین بشیر مسئلہ تقدیر کے متعلق ایک عزیز کے سوالوں کا جواب کچھ عرصہ ہوا میرا ایک مضمون مسئلہ تقدیر کے متعلق الفضل مورخہ ۸/اگست میں شائع ہوا تھا۔اس پر ہمارے تعلیم الاسلام کالج کے ایک نو جوان محمد شریف صاحب جاوید بی۔ایس سی سٹوڈنٹ نے کچھ سوالات لکھ کر بھیجے ہیں اور خواہش ظاہر کی ہے کہ ان سوالوں کا جواب دے کر ان کی رہنمائی کی جائے۔جاوید سلمہ لکھتے ہیں کہ میں نے اپنے بعض دوسرے ہم جماعت دوستوں سے بھی ان سوالوں کا جواب دریافت کیا مگر وہ تسلی بخش جواب نہیں دے سکے بلکہ میری طرح وہ بھی ان سوالوں کا جواب معلوم کرنے کے آرزومند ہیں۔سوسب سے پہلے تو میں اس بات پر خوشی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے نو جوانوں میں اس قسم کے علمی مسائل کے متعلق دلچسپی پیدا ہو رہی ہے جو قومی زندگی اور قومی ترقی کی ایک خوش کن علامت ہے مگر دوسری طرف مجھے افسوس بھی ہے کہ عزیز جاوید سلمہ نے ان سوالوں کے متعلق خود اپنے دماغ پر زور دے کر جواب معلوم کرنے کی کوشش کیوں نہ کی۔یقیناً یہ سوال ایسے نہیں ہیں کہ احمدی نوجوانوں کی علمی استعداد سے بالا سمجھے جائیں۔البتہ ان میں کچھ لفظی ہیر پھیر کی پیچیدگی ضرور ہے جسے سمجھنے کے لئے دماغ پر کسی قدر زور دینا پڑتا ہے لیکن اگر احمدی نوجوان اپنے دماغوں پر زور دینا نہیں سیکھیں گے تو اور کون سیکھے گا ؟ مگر بہر حال جواب سمجھ نہ آنے پر دوسرے سے پوچھ لینا اس بات سے بہت بہتر ہے کہ دل میں ایک کھٹک پیدا ہوا اور انسان نہ تو اسے خود نکالے اور نہ اسے نکالنے کے لئے کسی دوسرے کی مدد حاصل کرے کیونکہ اس طرح دل میں زنگ لگنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔دل کا زنگ ہر دوسری مرض سے بدتر ہے۔اس کے بعد میں جاوید سلمہ کے سوالوں کا جواب لکھتا ہوں اور اس جواب کو میں دانستہ مختصر صورت میں لکھوں گا کیونکہ کالج کے سمجھدار طالب علموں کے لئے اشارہ کافی ہونا چاہیے۔گو بہر حال اسے سمجھنے کے لئے میرے اصل مضمون کا بغور مطالعہ ضروری ہے۔پہلا سوال جاوید سلمہ کا یہ ہے کہ اگر جیسا کہ میں نے اپنے مضمون میں لکھا ہے یہ نظر یہ قبول کیا جائے کہ جو بیمار غلط علاج سے فوت ہو گیا وہ صحیح علاج سے بچ بھی سکتا تھا تو اس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پھر انسان کی موت کا کوئی وقت مقرر نہیں کیونکہ ظاہر ہے کہ اگر انسان کو اس کی بیماریوں میں صحیح اور بر وقت علاج میسر آتا جائے تو اس نظریہ کے ماتحت وہ یقیناً بہت لمبی بلکہ نہ ختم ہونے والی عمر پا سکے