مضامین بشیر (جلد 2) — Page 926
مضامین بشیر ۹۲۶ آنحضرت صلعم کا یہ کام صرف شوق کی خاطر یا دوستوں اور غریبوں کو گوشت کھلانے کی غرض سے نہیں تھا بلکہ آپ اسے ایک دینی کام سمجھتے اور بھاری ثواب کا موجب خیال فرماتے تھے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ : " رض ” عن زيد بن ارقم قال اصحاب رسول الله صلعم يا رسول الله ما هذا الاضاحي قال سنة ابيكم ابراهيم۔قالو في لنا فيها يا رسول الله قال بكل شعرة حسنة یعنی زید بن ارقم روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ نے آپ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ یہ عید الاضحیٰ کی قربانیاں کیسی ہیں؟ آپ نے فرمایا۔تمہارے جدا مجد ابراہیم کی جاری کی ہوئی سنت ہے۔صحابہ نے عرض کیا کہ پھر ہمارے لئے اس میں کیا فائدہ کی بات ہے؟ آپ نے فرمایا۔قربانی کے جانور کے جسم کا ہر بال قربانی کرنے والے کے لئے ایک نیکی ہے۔جو ا سے خدا سے اجر پانے کا مستحق بنائے گی۔“ 66 اور ایک اور موقعہ پر آپ نے نہ صرف اپنی طرف سے قربانی کی بلکہ تحریک اور تاکید کی غرض سے اپنی امت کی طرف سے بھی قربانی دی۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ :- " عن عائشه ان رسول الله صلعم امر بكبش ثم نجعله ثم قال ۱۶۹ بسم الله اللهم تقبل من محمد وال محمد و من امة محمد _ د و یعنی حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ ایک عید کے موقعہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دنبہ منگوایا۔پھر اسے خود اپنے ہاتھ سے ذبح کیا اور ذبیح کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ دنبہ خدا کے نام کے ساتھ ذبح کرتا ہوں اور پھر دعا فرمائی کہ اے میرے خدا اس قربانی کو تو محمد ( صلعم ) کی طرف سے اور محمد (صلعم) کی آل کی طرف سے اور محمد (صلعم) کی ساری امت کی طرف سے قبول فرما۔کیا ان واضح اور قطعی روایتوں کے ہوتے ہوئے جو صرف نمونہ کے طور پر لی گئی ہیں کوئی سچا اور واقف کار مسلمان اس بات کے کہنے کی جرات کر سکتا ہے کہ قربانی صرف حاجیوں کے لئے ہے اور غیر حاجیوں کے لئے عید اضحی کے موقعہ پر کوئی قربانی مقرر نہیں۔بے شک یہ درست ہے۔قربانی صرف طاقت رکھنے والے لوگوں پر واجب ہے اور بعض احادیث سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ اگر سارے گھر کی طرف سے ایک مستطیع شخص قربانی کر دے تو یہ قربانی سب کی طرف سے سمجھی جاسکتی ہے۔مگر بہر حال