مضامین بشیر (جلد 2) — Page 922
مضامین بشیر ۹۲۲ حجۃ الوداع کہلاتا ہے۔یہ حج آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے دسویں سال میں ادا فرمایا۔طبری و فتح الباری شرح بخاری ) اور اس کے صرف اڑھائی ماہ بعد آپ وفات پاگئے۔(۴) قرآن شریف نے صراحت فرمائی ہے کہ حج کی عبادت کا آغاز حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں ہوا ( سورۃ حج رکوع نمبر ۴) جنہوں نے خدائی حکم سے اپنے پلو ٹھے فرزند حضرت اسمعیل کو مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں لا کر آباد کیا۔جہاں زندگی کے بقا کا کوئی سامان نہیں تھا اور حقیقہ یہی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس خواب کی تعبیر تھی جس میں آپ نے دیکھا کہ میں اپنے بچے کو ذبح کر رہا ہوں۔اس موقعہ پر خدا نے بچے کی قربانی کی جگہ ظاہر میں جانور کی قربانی مقرر فرمائی مگر حقیقت کی رو سے انسان کی قربانی بھی برقرار رہی۔یہ گویا پہلا انسانی وقف تھا جو خدا کی راہ میں پیش کیا گیا تا کہ خدا تعالیٰ حضرت اسمعیل کو اس ”موت“ کے بعد ایک نئی زندگی دے کر اس درخت کی تخم ریزی کرے جس سے بالآخر عالمگیر شریعت کے حامل سید ولد آدم فخر انبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وجود با جود پیدا ہونے والا تھا۔حج میں قربانی کی رسم اسی اسمعیلی قربانی کی ایک ظاہری علامت ہے تا کہ اس کے ذریعہ اس بے نظیر قربانی کی یا دزندہ رکھی جا سکے۔جس کے شجرہ طیبہ نے مکہ کی بظاہر بے شمر وادی میں وہ عدیم المثال ثمر پیدا کیا جس کے دم سے دنیا میں روحانیت زندہ ہوئی زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گی۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے : انا ابن الذبحين ۱۶۲ یعنی میں دو ذبح ہونے والی ہستیوں کا فرزند ہوں“ ایک اسمعیل کا جسم جو گویا مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں آباد کر کے عملاً ذبح کر دیا گیا اور دوسرے اسمعیل کی روح جو خدا کے حضور وقف علی الدین کے ذریعہ قربان ہوئی۔عید الاضحی کی قربانیاں اسی مقدس قربانی کی یاد گار ہیں مگر اس زمانہ کے روحانی تنزل اور مادی عروج پر انسان کیا آنسو بہائے کہ اس عظیم الشان قربانی کی یاد کو زندہ رکھنا تو در کنار آج اکثر مسلمان عید الاضحی کا نام تک فراموش کر چکے ہیں۔چنانچہ جسے دیکھو عید الاضحی ( قربانیوں کی عید ) کی بجائے جو اس عید کا اصل نام ہے عید الضحی (صبح کے وقت کی عید ) کہتا ہوا سنائی دیتا ہے اور اس افسوسناک غلطی سے اچھے پڑھے لکھے لوگ حتی کہ اخباروں کے نامہ نگار اور کئی ایڈیٹر صاحبان بھی مستثنی نہیں۔بھلا جو لوگ اپنی قربانیوں والی عید کے نام سے ” قربانی کا لفظ تک حذف کر کے اسے وقف طاق نسیاں کر چکے ہوں وہ اس کی قربانی کی عبادت کو کس طرح یا درکھ سکتے ہیں۔حالانکہ جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا ہے۔یہ نام خود ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا رکھا ہوا ہے۔