مضامین بشیر (جلد 2) — Page 917
۹۱۷ مضامین بشیر میں نہیں آسکتا۔مگر میں محسوس کرتا ہوں کہ تمہارا امتحان بھی سخت ہوا ہے بہت سخت۔اب اگر تم سچی توبہ کرنا چاہتے ہو تو مجھے ایک درخواست لکھ کر دو جس پر تمہاری مقامی جماعت کی تصدیق ہو اور اس درخواست میں تم اس بات کا وعدہ کرو کہ تم ہر فیصلہ کو ماننے کے لئے تیار ہو گے۔پھر یہ درخواست قادیان جائے گی اور وہاں کی رپورٹ کے بعد حضرت صاحب کے سامنے پیش ہو گی اور پھر حضرت صاحب تمہارے گناہ کے کفارے کے لئے جو بھی سزا تجویز فرمائیں گے تمہیں اس کے لئے بخوشی تیار رہنا چاہئے۔اس نے کہا ہاں ہاں میں وعدہ کرتا ہوں مگر خدا کے لئے مجھے قادیان بھجوا دیں۔میں پھر وہاں سے نکلنے کا کبھی نام نہیں لوں گا۔میں نے کہا یوں نہیں ، جس نعمت کو تم نے خود اپنے ہاتھ سے ٹھکرایا اب وہ یونہی آسانی سے نہیں مل سکتی۔اب تمہیں بہر حال خلیفہ وقت کے آخری فیصلہ کا انتظار کرنا ہوگا۔اس پر اس نے واپس جا کر جماعت کی تصدیق کے ساتھ درخواست بھجوائی جس پر جماعت نے اس کے غیر معمولی مصائب اور اس کی توبہ کی تصدیق کی اور اس کی سفارش بھی لکھی جس کے بعد یہ درخواست قادیان بھجوائی گئی اور قادیان سے واپس آنے پر وہ حضرت صاحب کے سامنے پیش ہوئی۔اس پر حضرت صاحب نے جو ارشاد لکھ کر ارسال فرمایا ہے وہ مجھے آج ہی ربوہ سے ہوتا ہوا یہاں ملا ہے اور میں اسے آپ اصحاب کی اطلاع اور عبرت کے لئے ذیل میں درج کرتا ہوں۔حضور نے لکھا ہے کہ:۔افسوس کہ قادیان سے بھاگنے والے کسی صورت میں معاف نہیں کئے جا سکتے جب تک کہ ویسی ہی سخت آگ میں نہ ڈالے جائیں۔مگر یہ غلط ہے کہ یہ ( یعنی عبدالکریم ) اس سزا کو قبول کرے گا۔اگر قبول کرتا ہے تو اسے کہا جائے کہ پانچ سال تک کے لئے پنجاب سے چلا جائے اور اپنے کسی رشتے دار اور دوست سے (جن کی وجہ سے اس نے سلسہ سے غداری کی ) کوئی تعلق یا خط و کتابت نہ رکھے۔“ میرے بزرگو دوستو اور عزیز و! یہ وہ فیصلہ ہے جو عبد الکریم کے اتنے بھاری مصائب کے باوجود خلیفہ وقت نے ہاں اسی خلیفہ وقت نے جسے آپ مصلح موعود یقین کرتے ہیں عبد الکریم کے متعلق صادر فرمایا ہے۔گویا اس کے عذاب کی چکی ابھی تک گردش میں ہے۔فاعتبرو آیا اولی الابصار میرے دینی بھائیو! اس سزا کو سخت نہ خیال کرو کیونکہ ہر سزا کا اندازہ جرم کے مطابق لگایا جاتا ہے اور جماعت کے اس نازک ترین دور میں قادیان سے بلا اجازت بھاگنے اور سلسلہ کے ساتھ گویا اس کی زندگی اور موت کے زمانہ میں غداری کرنے کا جرم ایسا نہیں کہ خدا اسے آسانی سے معاف کر