مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 911 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 911

۹۱۱ مضامین بشیر وجہ سے علم پیدا ہوتا ہے اور ان دونوں باتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔علم اور چیز ہے اور تقدیر بالکل جدا چیز ہے۔اس کی موٹی مثال یوں سمجھی جاسکتی ہے کہ اگر کسی نیک اور خدا رسیدہ انسان کو خواب آئے کہ تین ماہ تک جاپان میں سخت زلزلہ آئے گا اور پھر اس کی یہ خواب عملاً پوری ہو جائے تو کیا کوئی عقلمند شخص کہہ سکتا ہے کہ اس کی خواب کی وجہ سے یہ زلزلہ آیا ہے۔ہرگز نہیں ہرگز نہیں بلکہ خواب اس وجہ سے آئی کہ زلزلہ نے آنا تھا۔اسی طرح بے شک خدا کو عالم الغیب ہونے کی وجہ سے یہ علم ہے کہ کس چیز کا کیا انجام ہونے والا ہے مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس کے علم کی وجہ سے یہ انجام ہوا بلکہ اس کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ چونکہ فلاں چیز کا یہ انجام ہونے والا تھا اس لئے خدا کو اس کا علم تھا۔پس بہر حال علم انجام کے تابع ہوا نہ کہ انجام علم کے تابع۔کیونکہ اگر انجام دوسرے رنگ میں ہوتا تو یقیناً خدا کا علم بھی اسی کے مطابق ہوتا۔مثلاً فرض کرو کہ ظہور الدین مرحوم جس کی وفات اس مضمون کی محرک ہے غلط علاج کی وجہ سے نو جوانی کی عمر میں فوت ہو گیا۔اب یہ تو ظاہر ہے کہ خدا کو پہلے سے اس بات کا علم تھا کہ ظہور الدین فلاں حالات کے نتیجہ میں فلاں وقت فوت ہو گا۔مگر اس سے یہ کیسے ثابت ہوا کہ ظہور الدین اس لئے فوت ہوا کہ خدا کے علم میں یہی وقت اس کی موت کا مقرر تھا اور اگر وہ اس وقت فوت نہ ہوتا تو خدا کا علم غلط ہو جاتا۔یہ ایک محض طفلانہ استدلال ہے جس سے کوئی دانا شخص تسلی نہیں پاسکتا۔اس ضمن میں میں یہ بات بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ حدیث میں جو یہ الفاظ آتے ہیں کہ جف القلم بما هو كائن ( یعنی جو کچھ دنیا میں ہونے والا ہے اس کے متعلق خدائی قلم کی نوشت معین ہو کرخشک ہو چکی ہے ) وہ بھی جیسا کہ بما هو كائن ( یعنی جو کچھ کہ آخری صورت میں ہونے والا ہے ) کے الفاظ میں اشارہ ہے خدا کے علم از لی کی بنا پر کہے گئے ہیں نہ کہ دنیا کی تقدیر عام کی بناء پر۔ہاں بے شک تقدیر خاص یعنی تقدیر مبرم کو ضرور اس نظریہ سے تعلق سمجھا جا سکتا ہے اور اس صورت میں اس حدیث سے مراد یہ لی جائے گی کہ (۱) جو کچھ دنیا میں ہونے والا ہے وہ قدیم سے خدا کے علم میں ہے یا (۲) یہ کہ خدا کی مبرم تقدیر میں ازل سے فیصلہ شدہ ہیں جن میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی اور دوسرے الفاظ میں یہی اس قرآنی آیت کا مفہوم ہے کہ لَن تَجِدَ لِسُنَةِ اللهِ تَبْدِيلًا یعنی تم خدا کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھو گے۔گویا تقدیر عام کی صورت میں تو یہ حدیث ہر چیز کے آخری انجام کے ساتھ تعلق ن رکھتی ہے جو بہر حال خدا کے علم میں ہے اور تقدیر خاص کی صورت میں وہ براہ راست تقدیر کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔جو ہر صورت میں اٹل ہوتی ہے۔واللہ اعلم۔بالآخر میں ایک لفظ اس شبہ کے متعلق بھی کہنا چاہتا ہوں جو بعض لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوا کرتا