مضامین بشیر (جلد 2) — Page 892
مضامین بشیر ۸۹۲ ضرورت کے وقت بھی نماز پڑھنے کے لئے چلا جاتا ہے اور پھر نماز میں بے چین رہ کر پریشان خیالی میں مبتلا ہوتا ہے۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کمال حکمت سے حکم دیا ہے کہ پیشاب اور پاخانہ وغیرہ کی شدت کے وقت نماز پڑھنے کی بجائے پہلے اپنی حاجت کو رفع کرو اور پھر نماز کے لئے کھڑے ہو۔پس گو اصولی طور پر دینی دعائیں بہر حال زیادہ ضروری اور زیادہ مقدم ہیں لیکن اگر کسی شخص کو کوئی دنیوی ضرورت پریشان کر رہی ہو اور وہ اس کی طرف سے توجہ نہ ہٹا سکے تو اس کے لئے وقتی طور پر اس دنیوی ضرورت کی طرف توجہ دینا زیادہ مقدم ہو جاتا ہے۔ہاں جس شخص کی ساری دعائیں دنیا ہی کے لئے وقف ہوتی ہیں وہ ہرگز سچا مومن نہیں سمجھا جا سکتا۔بلکہ ایک طرح سے وہ قرآنی وعيد ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا کے ماتحت آتا ہے پس اعلیٰ مقام یہی ہے کہ عام حالات میں دینی اور جماعتی دعاؤں کو مقدم کیا جائے اور اگر خدا کسی شخص کو یہ توفیق دے کہ اس کی ساری دعائیں ہی دینی اور جماعتی ضرورتوں کے لئے وقف ہوں اور اس کی دنیوی ضرورتیں اس کے دل میں ہرگز کوئی پریشان خیالی نہ پیدا کر سکیں تو میں یقین رکھتا ہوں کہ ایسے شخص کی دنیوی ضرورتوں کو خدا خود پورا فرمائے گا کیونکہ خدائے غیور و ودود سے یہ بات قطعاً بعید ہے کہ ایک شخص ساری دعا ئیں اس کے دین اور اس کی جماعت کے لئے وقف کر دے اور وہ پھر بھی اسے دنیا کی ذلت اور ناداری اور دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی لعنت میں مبتلا رکھے۔ایسے شخص کے لئے یقیناً زمین خود برکت کی فصل اگائے گی اور آسمان اس پر بے مانگے رحمت کی بارش برسائے گا۔بشرطیکہ وہ صبر اور رضا کے مقام پر قائم ہو۔مگر افسوس کہ ایسے لوگ کم ہیں بہت کم۔بہر حال میں اپنے عزیزوں اور دوستوں اور بزرگوں سے کہتا ہوں کہ وہ رمضان کے آخری عشرہ کی برکات سے فائدہ اٹھائیں۔کمروں کو باندھیں اپنی راتوں کو زندہ کریں اور اپنے اہل وعیال کو بھی بیداری کی تحریک کریں اور بہر حال ان با برکت لیل و نہار کو خاص نوافل اور قرآن خوانی اور ذکر الہی اور دعاؤں اور صدقہ و خیرات میں گزاریں اور گورمضان کی مخصوص نفلی نماز تہجد ہے لیکن دوستوں کو دن کے نوافل کو بھی نہیں بھلانا چاہئے۔جو ضحی کی نماز کی صورت میں مقرر کئے گئے ہیں اور نوافل میں یہی حکمت ہے کہ جس طرح ایک محبت کرنے والی ماں خوراک کا وقفہ لمبا ہو جانے پر اپنے بچے کو نیند سے جگا کر بھی دودھ پلاتی ہے تا اس میں کمزوری نہ پیدا ہو۔اسی طرح ہمارا حکیم و علیم خدا عشاء اور صبح کی نمازوں میں وقفہ لمبا ہو جانے پر اپنے بندوں کو رات کے وقت جگاتا ہے کہ اٹھو تمہاری عبادتوں کا درمیانی وقفہ لمبا ہو گیا ہے اس لئے ہمت کرو اور اٹھ کر یہ تھوڑی سی روحانی غذا کھا لو اور یہی حکمت ضحی کی نماز میں ہے کہ چونکہ صبح اور ظہر کی نمازوں کے درمیان بھی وقفہ زیادہ لمبا ہو جاتا ہے۔اس لئے اس وقفہ میں بھی ایک نفل نماز رکھ دی گئی ہے تا کہ سچے مومنوں پر خدا کی جدائی کا زمانہ لمبا ہو کر روحانی کمزوری کا باعث نہ بن جائے۔مگر دوسری طرف کمال حکمت سے ان