مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 878 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 878

مضامین بشیر ۸۷۸ چاہئے کہ اس وقت تک قادیان میں ہندوستان سے زیادہ تر بچے اور عورتیں اور بوڑھے مرد پہنچے ہیں اور ان میں سے اکثر خدمت کے قابل نہیں لیکن پھر بھی ان کی وجہ سے جس تعداد کا واپس بھیجنا مناسب سمجھا گیا وہ وہاں سے واپس بھجوا دی گئی ہے اور اس طرح اگر آئندہ کوئی گنجائش نکلی تو اس کے مطابق مزید وا پسی بھی ہو سکے گی گو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ واپسی کب ہوگی۔باقی رہا یہ سوال کہ فلاں شخص کیوں پہلے واپس آیا اور فلاں کیوں نہیں آیا۔سو ہمارے دوستوں کو اس قسم کی بدظنی میں نہیں پڑنا چاہئے۔انہیں یا درکھنا چاہئے کہ ان کے سامنے تو صرف ان کی اپنی تکلیف ہے لیکن قادیان کے جن دوستوں نے فیصلہ کرنا ہوتا ہے وہ سب کی تکلیف کو سامنے رکھ کر اور ایک ایک کے حالات کا موازنہ کر کے فیصلہ کرتے ہیں اور اپنی طرف سے پوری دیانت داری کے ساتھ فیصلہ کرتے ہیں اور گوغلطی ہر شخص کر سکتا ہے مگر مومنوں کو اپنے بھائیوں پر بہر حال حسن ظنی سے کام لینا چاہئے۔( سوم ) بعض دوست مجھ پر زور دیتے ہیں کہ تم ہمارے فلاں درویش رشتہ دار کو واپس بلا دو انہیں یا درکھنا چاہئے کہ یہ کام میرے اختیار میں نہیں بلکہ اس کا فیصلہ اول تو حالات کی مناسبت اور دوسرے گورنمنٹ کی اجازت اور تیسرے قادیان کے احمدی افسروں کے انتخاب پر ہے اور اس انتخاب میں میرا دخل نہیں اور نہ اس معاملہ میں میرا کوئی اختیار ہے۔دوسری طرف دوستوں کا صبر کرنا خودان کے اپنے ختیار میں ہے۔پس کتنے تعجب کی بات ہے کہ میرے متعلق تو اس بات کی توقع رکھی جاتی ہے جو میرے اختیار میں نہیں لیکن خود ہمارے دوست وہ بات کرنے کو تیار نہیں جو ان کے اپنے اختیار میں ہے۔(چہارم ) یہ بات بھی دوست جانتے ہیں کہ اگر کسی درویش کے رشتہ دار مالی لحاظ سے بے سہارا ہوں تو انہیں مناسب تصدیق کے بعد حسب گنجائش امداد بھی دی جاتی ہے جس میں ماہوار وظیفہ اور وقتی امداد دونوں چیزیں شامل ہیں۔پس اگر کسی درویش کے رشتہ دار کو مالی مشکلات کی پریشانی ہو تو وہ اس کے لئے درخواست کر کے امداد حاصل کر سکتے ہیں۔ایسی درخواستوں پر قادیان سے رپورٹ حاصل کی جاتی ہے اور پھر حسب گنجائش مناسب مدد کا انتظام کیا جاتا ہے اور اگر گنجائش نہ ہو یا اس حد تک گنجائش نہ ہو جو ہمارے دوستوں کی خواہش ہے تو بہر حال ایسی صورت میں ہمارے دوستوں کو سچے مومنوں کی طرح صبر سے کام لینا چاہئے کیونکہ لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وَسْعَهَا ( پنجم ) بالآخر میں دوستوں سے یہ بھی عرض کرونگا کہ یہ ایک خاص خدمت کا موقعہ ہے اور یہ ایک ایسی خدمت ہے جو سلسلہ احمدیہ میں انشاء اللہ قیامت تک یادگار رہے گی۔لوگ چند روپے کی ۴۳