مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 73 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 73

۷۳ مضامین بشیر تبریک“ کے الفاظ سے سرشار نظر آتا ہے اور خود احمدی نوجوان بلکہ الفضل کے کا رکن بھی اس رو میں بہے جار ہے ہیں اور اپنی جگہ بہت خوش ہیں کہ ہم نے زبان میں ایک خاص جدت پیدا کی ہے اور بڑی ترقی کا رستہ کھولا ہے۔حالانکہ زبانوں کے مسلمہ اصول کے مطابق یہ ترقی نہیں بلکہ تنزل اور تخریب ہے۔اگر میں بھولتا نہیں تو اس اتحاد کا سہرا غالبا زمیندار اخبار کے سر ہے۔جس نے جدت پسندی کے زبر دست جذبہ کے ماتحت یہ لفظ ایجاد کیا اور پھر دوسرے مسلمانوں نے محض کورانہ تقلید اور عجوبہ پسندی کے رنگ میں اس کا استعمال شروع کر دیا۔مگر کم از کم ہماری جماعت کے دوست تو جو سلطان القلم کے روحانی فرزند ہیں ، اس غلطی سے محفوظ رہنے چاہئیں۔دوسری مثال جو میں اس جگہ دینا چاہتا ہوں وہ لفظ ” اسلامی سے تعلق رکھتی ہے۔جو کچھ عرصہ سے لفظ مسلمان کا قائمقام بن کر ہماری زبان کو خراب کر رہا ہے آجکل ایسے محاورے کثرت سے اخباروں میں شائع ہوتے رہتے ہیں کہ " اسلامیان ہند یہ چاہتے ہیں اور اسلامیان پنجاب کی غیرت کا تقاضا یہ ہے وغیرہ وغیرہ حالانکہ صحیح لفظ مسلمان ہے نہ اسلامی۔قرآن شریف نے اس لفظ کو غالباً انتالیس جگہ استعمال کیا ہے اور سب جگہ بلا استثناء اسم فاعل کے صیغے کے رنگ میں مسلمان کا لفظ ہی استعمال ہے۔بلکہ ایک جگہ تو حضرت ابراہیم کی طرف منسوب کر کے یہاں تک فرمایا ہے کہ :۔هُوَ سَمَّكُمُ الْمُسْلِمِينَ۔۔۔یعنی حضرت ابراہیم نے تمہارے لئے خدائی منشاء کے ماتحت مسلمان کی اصطلاح قائم کی اور اسے دنیا میں جاری کیا پس کوئی وجہ نہیں کہ اس مانوس اور عام فہم بلکہ گویا خدا تعالیٰ کے رکھے ہوئے نام کو ترک کر کے جسے نہ صرف خود مسلمان بلکہ ہندؤوں اور سکھوں کا بچہ بچہ تک جانتا اور سمجھتا ہے ”اسلامی“ کا لفظ استعمال کیا جائے اور اردو زبان کو نہ صرف مشکل اور غیر مانوس بنایا جائے بلکہ معروف قرآنی محاورہ سے بھی دور کر دیا جائے۔کیا وجہ ہے کہ ہم مسلمانانِ پنجاب “ یا ” پنجاب کے مسلمان“ کے الفاظ کی بجائے ” اسلامیانِ پنجاب کا محاورہ استعمال کریں۔جو صرف غیر مانوس ہی نہیں بلکہ قرآنی محاورہ اور اسلامی اصطلاح کے بھی سراسر خلاف ہے۔اوپر کے دو الفا ظ صرف مثال کے طور پر بیان کئے گئے ہیں۔ورنہ آج کل کی اردو زبان میں ایسے الفاظ اور محاورات کثرت کے ساتھ داخل ہو گئے ہیں۔یا زیادہ صحیح طور پر یوں کہنا چاہئے کہ داخل کئے جا رہے ہیں جو بلا وجہ اور بلا کسی حقیقی ضرورت کے اردو زبان کو مشکل اور پیچدار بناتے چلے جا رہے ہیں۔اور اس طرح سادگی اور عام نہی کے جو ہر کو جو دراصل ہر ترقی کرنے والی زبان کی جان