مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 71 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 71

مضامین بشیر اردو زبان کو خراب ہونے سے بچاؤ قرآنی محاورہ کو برقرار رکھنا برکت و فصاحت کا موجب ہے اردو زبان بھی کس قدر قابلِ رحم ہے کہ اسے اس وقت دوقوموں کے سیاسی مصالح کا تیر پیہم خراب کرنے کے درپے ہے۔ہندو اس کے اندر ہندی اور سنسکرت کے انوکھے الفاظ اور غیر مانوس محاورات شامل کر کے اسے گویا شدھ کرنے کا آرزومند ہے۔اور مسلمان اس میں عربی اور فارسی کے مشکل صیغے اور دور افتادہ بندشیں داخل کر کے اسے بزعم خود کلمہ پڑھانے اور مومن بنانے کا خواہاں ہے اور اس جدو جہد کو دونوں قومیں بھاری دینی اور قومی خدمت خیال کر کے نا دانستہ طور پر ہماری مشتر کہ زبان اردو کا ستیا ناس کر رہی ہیں۔بے شک دوسری جاندار چیزوں کی طرح زبان بھی ایک بدلنے والی اور ترقی کرنے والی چیز ہے۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ سیاسی مصالح کے ماتحت تکلف اور تصنع کا طریق اختیار کر کے زبان کے طبعی نشو و نما کو غیر فطری ملمع سازی کے راستہ پر ڈال دیا جائے۔ہندوؤں نے تو اردو زبان میں ہندی اور سنسکرت کے الفاظ کی اتنی بھر مار شروع کر دی ہے کہ میں بلا مبالغہ کہ سکتا ہوں کہ جب کوئی ہندو صا حب ریڈیو پر تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو با وجود اس کے کہ وہ اردو میں بولنے کے مدعی ہوتے ہیں۔ان کی تقریر کے پچاس فیصدی الفاظ قطعی طور پر سمجھے نہیں جاسکتے اور دو چار منٹ کی توجہ کے بعد سمجھنے کی کوشش مجبور اترک کرنی پڑتی ہے۔مگر اس جگہ مجھے اصل گلہ ہندوؤں سے نہیں بلکہ مسلمانوں سے کرنا ہے۔جو ہندوؤں کی ضد میں آکر خواہ مخواہ اپنی زبان کو خراب کر رہے ہیں اور سادہ اور صاف اور مانوس الفاظ کی جگہ دور افتادہ اور مشکل الفاظ کو داخل کر کے سمجھتے ہیں کہ ہم زبان کی خدمت کر رہے ہیں۔حالانکہ یہ خدمت نہیں بلکہ عداوت ہے اور تعمیر نہیں بلکہ تخریب ہے۔اور پھر لطف یہ ہے کہ بعض نام نہاد اصطلاحیں تو ایسی ہیں کہ ایک فصیح لفظ کو چھوڑ کر جو قرآنی محاورہ کے بھی عین مطابق ہے ( اور قرآن کی زبان عربی محاورہ کی اصل الاصول ہے ) ایک نسبتاً غیر فصیح اور قرآنی محاورہ کے خلاف لفظ اختیار کر لیا گیا ہے۔میں اس جگہ زیادہ مثالیں نہیں دینا چاہتا صرف دو بدیہی اور موٹی مثالیں دے کر بتا تا ہوں کہ کس طرح خود مسلمانوں کی طرف سے اردو زبان کو بگاڑا جا رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی قرآنی محاوروں