مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 814 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 814

مضامین بشیر ۸۱۴ اسلام اور زمین کی ملکیت میرے تبصرے پر فاروقی صاحب کا تبصرہ حضرت امام جماعت احمدیہ کی جدید تصنیف ” اسلام اور زمین کی ملکیت پر ” آفاق میں فہیم احمد صاحب فاروقی ایم۔اے کا تبصرہ شائع ہوا تھا۔اس کے جواب میں میں نے ایک مختصر سا نوٹ لکھ کر آفاق‘ میں بھجوایا جو گویا فاروقی صاحب کے تبصرے پر تبصرہ کا رنگ رکھتا تھا اور مجھے امید تھی کہ میرے اس نوٹ پر یہ بحث ختم ہو جائے گی۔اس لئے نہیں کہ فاروقی صاحب لازماً میرے دلائل کی صحت کو تسلیم کر لیں گے بلکہ اس لئے کہ جب ایک جواب کا جواب الجواب ہو جائے تو اس کے بعد عموماً خاموشی اختیا ر کر کے پبلک کو ٹھنڈے دل سے سوچنے کا موقع دیا جاتا ہے۔لیکن ۲ مارچ کے آفاق میں مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ میرے اس جواب الجواب کے جواب میں فاروقی صاحب نے ایک اور مضمون لکھ کر شائع کرا دیا ہے اور اس میں بعض ایسی باتیں بیان کی ہیں جو مغالطہ پیدا کرنے والی ہیں۔پس ضروری ہے کہ ان کے اس تازہ مضمون کے جواب میں میں بھی کچھ لکھوں تا کہ کم از کم اس مغالطہ کو دور کرسکوں جو ان کی اس تحریر سے پیدا ہوتا ہے۔لیکن میں یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اس کے بعد میں فاروقی صاحب کے جواب میں (اگر وہ اس بحث کو لمبا کرنا چاہیں ) کچھ اور عرض نہیں کروں گا کیونکہ اس طرح مناظرے کا رنگ پیدا ہو جاتا ہے اور میرا تجربہ یہ ہے کہ مناظرے کا نتیجہ ضد اور سطحیت کے سوا اور کچھ نہیں نکلتا۔پس بہر حال میری طرف سے اس بحث میں یہ آخری نوٹ ہے۔اگر یہ فاروقی صاحب کی تسلی کا باعث نہ بن سکے تو کم از کم میری تسلی کے لئے وہ قرآنی آیت کافی ہوگی جس میں یہ کہا گیا ہے کہ کوئی شخص ہر دوسرے شخص کو سمجھانے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔سب سے پہلی بات فاروقی صاحب نے اپنے اس مضمون میں یہ کہی ہے کہ میں نے اپنے نوٹ میں حضرت امام جماعت احمدیہ کی تصنیف ” اسلام کے اقتصادی نظام کا ”کتاب“ کے لفظ سے ذکر کیا ہے۔حالانکہ فاروقی صاحب فرماتے ہیں کہ وہ تقریر ہے کتاب نہیں۔مجھے حیرت ہے کہ فاروقی صاحب کو اس ریمارک کی کیا ضرورت پیش آئی۔وہ خواہ تقریر تھی یا تصنیف ، بہر حال یہ کوئی ایسی بات نہیں تھی جسے فاروقی صاحب اپنے علمی مقالہ میں داخل کرنا ضروری خیال کرتے یا جس کے بیان