مضامین بشیر (جلد 2) — Page 807
۸۰۷ مضامین بشیر واقف نہیں تھا بلکہ ساری قوموں کے حالات اور قیامت تک کے حالات اس کی آنکھوں کے سامنے تھے اور اس نے ان سارے حالات کو دیکھتے ہوئے قرآن شریف کو دائمی شریعت قرار دے کر نازل کیا جس کے بعد اس دنیا کے لئے کوئی اور شریعت نہیں۔تو اس صورت میں ہمارے مہربان ناقد خود غور فرمائیں کہ ان کی اس جرح کا کیا مطلب ہوسکتا ہے کہ یہ حوالے ایک قدیم دور سے تعلق رکھتے ہیں اور گویا موجودہ زمانہ کے مسائل کا علاج پیش نہیں کرتے۔محترمی فاروقی صاحب آپ بڑی خوشی سے قرآنی آیات اور احادیث رسول کی تشریح کے متعلق فرمائیے کہ ان کا یہ مطلب نہیں بلکہ وہ مطلب ہے ان سے وہ استدلال نہیں ہوتا بلکہ یہ استدلال ہوتا ہے مگر خدا را قوم کو اس خیال کی طرف نہ لے جائیے کہ قرآن وحدیث کے حوالے ایک پرانے دور سے تعلق رکھتے ہیں۔قرآن وحدیث کا دور دائمی ہے اور اس کا دامن دنیا کی آخری ساعت تک وسیع ہے آپ بے شک اس کی ہر معقول تشریح کا حق رکھتے ہیں آپ اسلامی شریعت کے لچک دار حصے کو موجودہ زمانہ کی ضروریات کے مطابق حکیمانہ صورت میں پیش کرنے کے بھی مجاز ہیں۔مگر قرآن بہر حال وہی رہے گا۔حدیث وہی رہے گی اور اسلام کے مقدس حوالے بھی وہی رہیں گے۔دراصل شاید آپ نے غور نہیں فرمایا قرآن شریف ایک روحانی عالم ہے اسی طرح جس طرح یہ مادی دنیا ایک مادی عالم ہے۔حضرت آدم کے وقت کی دنیا آپ کو موجودہ زمانہ کی ساری ضرورتیں مہیا کرتی چلی جاتی ہے ہاں تلاش اور جستجو سے دنیا کے مخفی خزانوں کو نکال نکال کر باہر لانا آپ کا کام ہے تو پھر یہی نظریہ قرآن کے روحانی عالم پر بھی کیوں چسپاں نہیں کرتے ؟ اور قوم کی نظریں اس خطر ناک نقطہ کی طرف اٹھانے کے کیوں درپے ہیں کہ یہ تو پرانے دور کے حوالے ہیں؟ ہاں بے شک اگر آپ کے پاس کوئی اور حوالے ہیں تو انہیں پیش کیجئے یا اگر موجودہ حوالوں کی کوئی اور تشریح ہے تو وہ دنیا کے سامنے رکھئے بس پھر خود بخود فیصلہ ہو جائے گا اور آپ بہر حال ہمیں خدا کے فضل سے قرآن و حدیث کے سامنے وقاف پائیں گے۔اب میں ضمناً نہایت مختصر طور پر یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اسلام کے اقتصادی نظریہ کا فلسفہ کیا ہے۔میں یہ تو نہیں کہہسہ سکتا کہ میرے اس مختصر بیان سے ہمارے دوست فاروقی صاحب کی تسلی ہو جائے گی اور دراصل یہ دعوی کوئی شخص بھی نہیں کر سکتا ) مگر خدا کے فضل سے اتنی امید ضرور رکھتا ہوں اگر وہ میرے اس بیان پر ٹھنڈے دل سے غور فرمائیں گے تو وہ اس میں کم از کم اپنے دماغ کے لئے سوچنے کا ایک مواد ضرور حاصل کر لیں گے۔مگر میں یہ امر دوبارہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اس جگہ میرا مقصد اسلام کے اقتصادی نظام کی تشریح پیش کرنا نہیں ہے۔بلکہ صرف اس نظام کے فلسفہ اور حکمت کی طرف