مضامین بشیر (جلد 2) — Page 802
مضامین بشیر ۸۰۲ تکلیف میں کمی واقع ہو جو سورہ یسین کا روحانی خاصہ ہے۔اور دوسرے اسے خدا کی طرف توجہ پیدا ہو جو کلام الہی سنے کا طبعی نتیجہ ہے اور حتی الوسع اس کے سامنے خدا اور رسول کا ذکر کیا جائے۔پھر جب وہ فوت ہو جائے تو اس کی آنکھیں اور مُنہ بند کر کے اور اس کے اعضاء کو سیدھا کر کے اس کے منہ کو قبلہ رُخ کر دیا جائے اس کے بعد اسے مسنون طریق پر غسل دے کر کفن پہنایا جاتا ہے اور اس کے بعد مقررہ نماز جنازہ پڑھ کر دفنا دیا جاتا ہے اور پھر قبر کو ٹھیک ٹھاک کر کے آخری مختصر دعا کے بعد لوگ واپس آ جاتے ہیں اس کے بعد مرنے والے کا تعلق دنیا سے کٹ کر خدا اور اس کے فرشتوں کے ساتھ جا پڑتا ہے اور مومنوں کو بہر حال اپنے آسمانی آقا سے عفو و رحمت کی امید رکھنی چاہیئے اور اے میرے آقا میں نے تو بہر حال اپنی بے شمار لغزشوں کے باوجو د تجھ سے ہمیشہ یہی امید رکھی ہے اور میں ہر حال میں تیرے عفوا اور تیری رحمت اور تیرے فضل اور تیری برکت کا طالب ہوں۔وارجوامنک خیراً يا ارحم الراحمين) بس مختصراً یہی وہ مسنون حقوق ہیں جو اسلامی طریق کے مطابق ہر مرنے والے کے متعلق ادا کئے جاتے ہیں۔جس کے بعد مرنے والے کے عزیزوں کے ساتھ افسوس اور ہمدردی کرنے کے علاوہ خود مرنے والے کے لئے صرف دعا ہی باقی رہ جاتی ہے جو اس کے عزیز یا دوست یا شاگر د یا ہمسائے وغیرہ اس کے واسطے مانگتے ہیں اور مومنوں کی دعا علی قدر مراتب مرنے والوں کو ضرور فائدہ پہنچاتی ہے خواہ وہ قبر پر جا کر کی جائے یا غائبانہ کی جائے۔اس کے علاوہ ایک جائز طریق یہ بھی ہے کہ جس شخص کو توفیق ہو وہ کبھی کبھی ( مگر بغیر معین تاریخوں کے تا کہ رسم نہ بن جائے ) مرنے والے کی طرف سے کوئی صدقہ کر دے۔صدقہ کے نتیجہ میں ان غریب لوگوں کے دل سے دعائیں نکلتی ہیں جنہیں اس صدقہ سے فائدہ پہنچتا ہے اور اگر مرنے والا اپنی زندگی میں خود صدقہ وخیرات کا پابند رہا ہو تو ایک طرح سے اس کے نیک عمل کا تسلسل بھی قائم رہتا ہے۔اس کے علاوہ باقی باتیں مثلاً رسمی طریق پر فاتحہ خوانی کرنا یا قبروں پر بیٹھ کر قرآن پڑھنا یا گل یا چہلم وغیرہ کی رسوم ادا کرنا یہ سب ایسی باتیں ہیں جن کی (کم از کم میرے علم میں ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین اور صحابہ کرام کی سنت میں کوئی سند نہیں ملتی اور یقیناً با برکت طریق وہی ہے جو سنت سے ثابت ہو۔لوگوں نے اس قسم کی غیر مسنون رسموں میں الجھ کر دین کے صاف اور سیدھے طریق کو بیچ دار بنا دیا ہے اور پھر بعض رسمیں تو بیچارے غریب لوگوں کے لئے ان کے کسی عزیز کی موت کو گویا ایک چٹی بنا دیتی ہیں جو انہیں بہت سے ناواجب بوجھوں کے نیچے دبا دیتی ہے اور بجائے اس کے کہ مرنے والوں کے گھروں میں ان کے عزیز اور ہمسائے ایک دو دن تک کھانا بھجوا کر ان کی