مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 712 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 712

مضامین بشیر ۷۱۲ اور میرے لئے اسے آسان کر دے اور مجھے اس میں برکت عطا کر۔لیکن اے میرے آقا ! اگر تیرے علم میں یہ کام میرے لئے برا ہے اور میرے دین اور میری دنیا اور میرے حاضر اور میرے مستقبل کے لئے اس میں بہتری نہیں تو میری توجہ کو اس کام کی طرف سے پھیر دے اور اس کام کے حصول کو مجھ سے دور کر دے اور پھر اس کی جگہ جو کام بھی تیرے علم میں میرے لئے بہتر ہو مجھے اس کی توفیق دے اور میرے دل میں اس کے متعلق تسلی عطا کر۔آمین۔“ یہ دعا کتنی جامع اور کتنی با برکت اور توکل کے جذبات سے کتنی معمور اور طلب خیر کی روح سے کتنی بھر پور ہے مگر افسوس کہ دنیا کا بلکہ خود مسلمانوں کا ایک حصہ اس سے بالکل جاہل اور دوسرا حصہ جھوٹے فلسفیوں کی آڑ لے کر اس سے بالکل غافل ہو رہا ہے۔حتی کہ بعض لوگوں نے تو یہاں تک مشہور کر رکھا ہے کہ: در کار خیر حاجت بیچ استخاره نیست یعنی ” نیک کام میں کسی استخارہ کی ضرورت نہیں۔حالانکہ اگر کارِ خیر میں استخارہ نہیں تو کیا کار بد میں استخارہ ہے؟ کیا نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کا منشاء یہ ہے کہ جب تم چوری یا ڈا کہ یا زنا یا قتل کے مرتکب ہونے لگو تو اس وقت استخارہ کرو۔عزیز و اور دوستو! استخارہ تو ہے ہی نیک کاموں کے لئے اور استخارہ کے حکم میں آنحضرت مے کا یہی منشاء ہے کہ جب تم کوئی ایسا کام کرنے لگو جو تمہارے لئے فرائض اور واجبات میں سے نہیں ہے لیکن تم اسے اپنے علم میں اچھا اور نیک کام خیال کرتے ہو تو اس وقت صرف اپنے علم اور اپنی رائے پر ہی بھروسہ نہ کیا کرو بلکہ استخارہ کے ذریعہ خدا سے بھی خیر مانگا کرو تا کہ اس کے علم کی وسعت تمہارے علم کے نقص کی تلافی کر دے اور تم غلطی سے ایسا قدم نہ اٹھا لو جو گو تمہارے خیال میں اچھا ہے لیکن خدا کے علم میں وہ تمہارے لئے مناسب نہیں یا آئندہ چل کر وہ تمہارے واسطے ٹھو کر اور شماتت کا موجب بننے والا ہے۔دراصل انسانی کام تین قسم کے ہوتے ہیں : ( اول )۔وہ کام جن کا اسلام نے حکم دیا ہے اور انہیں فرض قرار دیا ہے اور ہدایت دی ہے کہ ہر مسلمان انہیں بجالائے مثلاً پانچ وقت کی نماز اور رمضان کے روزے اور سچی شہادت اور ایفائے عہد وغیرہ ایسے کام اسلامی اصطلاح میں اوامر کہلاتے ہیں۔( دوم ) وہ کام جن سے اسلام نے منع کیا ہے اور ان کے ارتکاب کو گناہ قرار دیا ہے مثلاً چوری