مضامین بشیر (جلد 2) — Page 682
مضامین بشیر ۶۸۲ ہیں ایک دن کا پرمٹ حاصل کے قادیان گئے تو میری بڑی خواہش اور کوشش تھی کہ مجید احمد کے بھائی محمد حسین کی بھی ایک دن کیلئے قادیان جانے کی اجازت مل جائے تا کہ وہ مجید احمد سے مل سکے اور اسے اپنی والدہ کا سلام اور دعا کا پیغام پہنچا سکے اور اگر مجید احمد نے اپنے اہل عیال کے لئے کوئی پیغام دینا ہو تو وہ بھی سن سکے مگر افسوس کہ انتہائی کوشش کے باوجود حکومت ہندوستان نے اس کی اجازت نہیں دی اور یہ نوجوان اپنے عزیزوں سے ملنے کے بغیر اس جہان سے رخصت ہوا۔دین کے رستہ میں یقیناً اس قسم کی قربانیاں کرنی پڑتی ہیں اور کرنی پڑیں گی مگر افسوس اس حکومت پر جو ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی انسانی جذبات کا خیال نہیں رکھ سکتی۔مجید احمد قادیان میں فوت ہونے والے درویشوں میں چوتھا درویش ہے۔سب سے پہلے حافظ نور الہی صاحب فوت ہوئے جو غالباً چالیس سال کے لگ بھگ جوان تھے۔ان کے بعد بابا شیر محمد صاحب فوت ہوئے جن کی عمر ایک سو سال سے اوپر تھی اور وہ پرانے صحابیوں میں سے تھے ان کے بعد سلطان احمد سکنہ کھاریاں فوت ہوا جو ایک ہیں بائیس سالہ نو جوان تھا اور اس کی وفات بھی قریباً اچانک ہوئی تھی اور اب چوتھے نمبر پر مجید احمد کی وفات کی اطلاع پہنچی ہے۔اللہ تعالیٰ ان سب کو غریق رحمت کرے اور ان کے عزیزوں کا حافظ و ناصر ہو۔آمین۔ایسے واقعات سے صدمہ پہنچنا تو انسانی فطرت کا حصہ ہے اور خود آنحضرت ﷺ کی آنکھوں میں اس وقت آنسو آ گئے تھے جب کہ آپ کی ایک نو اسی فوت ہوئی تھی اور آپ نے اس موقع پر فرمایا تھا کہ وقت کے جذبات بھی خدا کی اس ابدی رحمت کا حصہ ہیں جو اس نے اپنے بندوں کے دلوں میں پیدا کی ہے لیکن جن خیالات میں آج کل قادیان کے درویش زندگی گزار رہے ہیں ان کے ماتحت یہ اندیشہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس قسم کے واقعات کے نتیجہ میں بعض خام طبیعت نوجوان درویشوں کے دلوں میں گھبراہٹ کے آثار نہ پیدا ہوں۔سو احباب ان کے لئے بھی دعا فرما ئیں۔باقی یہ تو ایک ابدی حقیقت ہے کہ : كل من عليها فان ويبقى وجه ربك ذو الجلال والا اكرام وانا لله وانا اليه راجعون - مورخه ۶ اکتوبر ۱۹۴۹ء)