مضامین بشیر (جلد 2) — Page 681
۶۸۱ مضامین بشیر ایک اور درویش چل بسا قادیان میں مجید احمد کی افسوسناک وفات جیسا کہ میرے متعدد اعلانوں کے ذریعہ احباب کو معلوم ہو چکا ہوگا۔کچھ عرصہ سے مجید احمد سابق ڈرائیور حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ قادیان میں سل کی بیماری میں مبتلا تھا اور گو درمیان میں حالت سخت تشویشناک ہو گئی تھی مگر آخری خطوں سے معلوم ہوتا تھا کہ اب مجید احمد کی حالت نسبتاً بہتر ہے اور چہرہ پر کچھ رونق آگئی ہے اور خوراک بھی ہضم ہونے لگی ہے حتی کہ کل کے آخری خط میں یہاں تک ذکر تھا کہ اپنی بیماری میں افاقہ کے پیش نظر مجید احمد نے خواہش کی ہے کہ اسے عید والے دن کسی نہ کسی طرح عید کی نماز میں پہنچا دیا جائے تا کہ وہ نماز کی شرکت کا ثواب حاصل کر سکے لیکن گذشتہ رات ساڑھے نو بجے کے قریب قادیان سے اچانک یہ فون آیا کہ مجید احمد کی حالت اچانک خراب ہو گئی ہے اور بظاہر بچنے کی کوئی امید نظر نہیں آتی اور اس کے بعد آج صبح یہ فون آیا ہے کہ مجید احمد ۱۱ جگر ۴ منٹ پر اپنے مولا کے حضور پہنچ گیا۔انا لله وانا اليه راجعون۔جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں مجید احمد جس کی عمر شاید چوبیس پچیس سال کی ہوگی ، ایک بڑا مخلص نوجوان تھا اور بڑے شوق اور جذبہ قربانی کے ماتحت قادیان میں ٹھہرا ہوا تھا۔حتی کہ جب بیماری کے ایام میں اس کی حالت زیادہ گرگئی اور قادیان کے دوستوں نے ارادہ کیا کہ حکومت سے اجازت لے کر اسے علاج کے لئے پاکستان بھجوا دیں تو اس وقت مجید احمد نے بڑی منت کیسا تھ کہا اگر میرے بچنے کی بظاہر امید نہیں تو مجھے ہرگز پاکستان نہ بھجوا ؤ کیونکہ میں بہشتی مقبرہ سے محروم نہیں ہونا چاہتا لیکن اگر کامیاب علاج کی امید ہے تو پھر بیشک بھیج دیا جائے لیکن اس کے ساتھ یہ شرط ضروری ہوگی کہ اچھا ہونے کے بعد میں پھر قادیان آ جاؤں گا۔بہر حال مجید احمد ایک بڑا مخلص نو جوان تھا اور موصی بھی تھا اور اس کی بوڑھی ماں ایک عرصہ سے حضرت اماں جان ام المومنین اطال الله ظلها کی خدمت میں ہے۔اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت کے سایہ میں جگہ دے اور اس کی والدہ اور بیوی اور بھائیوں اور دوسرے رشتہ داروں کا حافظ و ناصر ہو۔گذشتہ ایام میں جب میاں غلام مرتضی صاحب بیرسٹر جو حال ہی میں انگلستان سے واپس آئے