مضامین بشیر (جلد 2) — Page 643
۶۴۳ مضامین بشیر گناہ کی وجہ سے بے گناہ بچہ کو ہلاک کیا جائے اور دوسرے حمل گرانے کی کوشش میں خود ماں کی جان کو بھاری خطرہ ہوتا ہے اور تیسرے ہم نہیں کہہ سکتے کہ جو بچہ پیدا ہو وہ شائد اپنے قلبی اور دماغی قومی کے لحاظ سے دینی یا دنیوی رنگ میں کوئی اچھا اور مفید وجود بن جائے کیونکہ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بہر حال ہر بچہ فطرت اسلامی پر پیدا ہوتا ہے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فعل کہ آپ نے حمل کے ایام میں عورت کو سزا نہیں دی تا کہ کہیں ماں کے ساتھ بچہ بھی ضائع نہ ہو جائے اور پھر بچہ کے پیدا ہونے کے فوراً بعد بھی ماں کو سزا نہیں دی تا ایسا نہ ہو کہ اس طرح بھی نوزائیدہ بچہ اپنی طبعی خوراک سے محروم ہو کر ضائع ہو جائے ، صاف ظاہر کرتا ہے کہ عام حالات میں حمل کا گرانا اور پیدا شدہ جان کا تلف کرنا کسی طرح پسندیدہ چیز نہیں ہے۔آخر جو عورت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تھی اس کے لئے بھی تو یہ بچہ ایک ناجائز بچہ ہی تھا اور پھر اس کے لئے بھی اس بچہ کی پیدائش کی صورت میں گناہ کی تلخ اور سیاہ یا د باقی رہتی تھی مگر پھر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانیت کے وسیع مفاد کے ماتحت بچہ کی جان کو بچایا اور اسے تلف ہونے نہیں دیا تو جب ایک اپنی مرضی سے گناہ کی مرتکب ہونے والی عورت کے ساتھ یہ معاملہ کیا گیا تو پھر اس بیچاری عورت کا کیا قصور ہے جو اپنی مرضی سے نہیں بلکہ ظالم درندوں کی بربریت کا شکار ہو کر مجبوراً حاملہ ہوتی ہے۔اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی اس ٹھوکر کھانے والی عورت کے بچہ کا حق تھا کہ اسے بچایا جائے تو گذشتہ فسادات کی مظلوم اور مجبور اور مقہور عورتوں کے بچوں کو کیوں نہ بچایا جائے ؟ یقیناً ایسی عورتیں خدا کی نظر میں معصوم ہیں اور ہر شریف انسان کا فرض ہے کہ انہیں معصوم سمجھے۔بے شک یہ درست ہے اور میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ ہماری سوسائٹی کا ایک حصہ باوجود ایسی عورتوں کی مجبوری کے انہیں قابل اعتراض اور قابل طعن خیال کرتا ہے اور ایسی عورتوں کو دوبارہ اپنے خاندانی سرکل میں قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا لیکن اسلام تو الگ رہا دنیا کے کسی معروف قانون کے ماتحت بھی ایسے لوگوں کا یہ رویہ قابل تعریف نہیں سمجھا جا سکتا۔مرد بیسیوں جگہ منہ کالا کر کے اور اپنی مرضی سے ادھر اُدھر جھک مار کر پھر بھی اپنے آپ کو سوسائٹی میں سر اونچا کرنے کے قابل سمجھتا ہے لیکن مظلوم اور مقہور عورت جوا تنہائی بے بسی کی حالت میں ظالم درندوں کے ہاتھ میں پڑ کر بر بریت کا شکار ہوتی ہے اور پہلا موقع پانے پر ظالموں کی قید سے بھاگ آتی ہے وہ بدمعاش اور ذلیل اور سوسائٹی میں منہ دکھانے کے قابل نہ سمجھی جائے۔مردوں کے لئے یہ امتیاز قابل شرم ہے اور نہایت درجہ قابل شرم !!!