مضامین بشیر (جلد 2) — Page 640
مضامین بشیر ۶۴۰ اغوا اور زنا بالجبر کے نتیجہ میں حاملہ ہونے والی عورتیں شائد ڈیڑھ سال کا عرصہ ہوا ہے کہ مجھ سے ایک ڈاکٹر نے خط کے ذریعہ پوچھا تھا کہ جو اغوا شدہ عورتیں بحال ہو کر مشرقی پنجاب سے آ رہی ہیں اگر ان میں سے کوئی بدقسمت عورت حاملہ پائی جائے تو اس کا کیا علاج ہے اور اسلامی شریعت اس کے متعلق کیا کہتی ہے؟ میں نے اس وقت اس کا مختصر سا جواب الفضل میں شائع کرا دیا تھا۔لیکن اب اسی قسم کا سوال مجھے ایک اور صاحب کی طرف سے بھی پہنچا ہے۔وہ فرماتے ہیں کہ ایک غریب اور مظلوم عورت ابھی ابھی مشرقی پنجاب سے سکھوں سے چھٹکارا پا کر پاکستان میں پہنچی ہے اور وہ حاملہ ہے ، اس کے متعلق کیا ہونا چاہیئے ؟ ان صاحب نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ مظلوم عورت جو سکھ درندوں کی وحشیانہ بر بریت کا شکار ہوئی ہے اس بات پر بڑی سختی کے ساتھ مصر ہے کہ اس کا حمل ضائع کرا دیا جائے کیونکہ وہ اس بات کو برداشت نہیں کرتی کہ اس کی مظلومیت کی یہ نا پاک یاد باقی رہے۔چونکہ گزشتہ قیامت خیز طوفان میں اس قسم کے کئی واقعات ہو چکے ہیں اور اب تک بھی بعض مسلمان عورتیں اپنے قید کرنے والے سکھوں سے نجات پاکر پاکستان پہنچ رہی ہیں۔اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کے متعلق ایک مختصر مگر جامع نوٹ اخبار میں شائع کرا کے ایسی عورتوں کے متعلقین کو آگاہ اور ہوشیار کر دیا جائے تا کہ وہ غلط رستہ پر قدم زن ہونے سے بچ جائیں۔جہاں تک ذاتی غیرت کا تعلق ہے اس میں کلام نہیں کہ جب کوئی مظلوم اور بے بس عورت کسی ظالم مرد کی بر بریت کا شکار ہوتی ہے تو عام حالات میں اس کی غیرت کا یہی تقاضا ہوتا ہے کہ وہ اپنی مظلومیت کی اس ناپاک یا د کو مٹا دے اور جہاں تک ممکن ہو اس داغ سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کرے۔میں اس غیرت کے جذبہ کو اصولاً ہرگز برا نہیں کہتا۔یقیناً جہاں تک انفرادی یا خاندانی احساسات کا سوال ہے یہ ایک حد تک طبعی جذبہ ہے بلکہ اگر عام حالات میں کسی عورت کے دل میں یہ غیرت اور اپنی مظلومیت کی تلخ یاد کے خلاف یہ بغاوت پیدا نہیں ہوتی تو میرے لئے حیرت کا مقام ہوگا کہ وہ ایک ایسے داغ کو جسے کم از کم ایک حد تک اسے مٹانے کی طاقت حاصل ہے، کیوں مٹانے کی کوشش نہیں کرتی؟ بلکہ میں سنتا ہوں کہ موجودہ غیر معمولی حالات میں حکومت کے بعض افسر بھی قولاً اور قانو نا تو نہیں مگر عملاً اس قسم کے حالات میں عورت کے متعلق چشم پوشی بلکہ اعانت کا طریق اختیار کرتے