مضامین بشیر (جلد 2) — Page 45
۴۵ مضامین بشیر سیدہ ام طاہر مرحومہ کی بڑی بچی کی شادی اور مسرت و غم کے مخلوط جذبات پرسوں بروز اتوار بتاریخ ۱۰ / اکتوبر ۱۹۴۶ء حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی صاحبزادی اور ہمشیرہ سیدہ ام طاہر مرحومہ کی بڑی بچی عزیزہ امتہ الحکیم سلمہا کا رخصتا نہ تھا۔دنیا میں ہر روز ہزاروں لاکھوں شادیاں ہوتی ہیں اور ہر شادی میں لڑکی والوں کے لئے خوشی کے ساتھ ساتھ ایک پہلوغم کا بھی شامل ہوتا ہے۔کیونکہ پلی پلائی لڑکی جو گھر کی رونق و بہار اور والدین کی نور چشم اور راحتِ جان ہوتی ہے ان کے گھر سے رخصت ہو کر ایک دوسرے گھر میں قدم رکھتی ہے اور پھر اس کے بعد وہ عملاً ہمیشہ کے لئے اسی مؤخر الذکر گھر کی ہو جاتی ہے۔گویا وہ ایک پودا تھا جو ایک باغ سے اکھڑ کر دوسرے باغ میں نصب ہو گیا۔پس والدین جہاں اس موقع پر اپنی بچی کا گھر آباد ہوتا دیکھ کر اور اس کے سہاگ کی امید میں دل میں قائم کر کے خوش ہوتے ہیں۔وہاں ان کا دل اپنی بچی کی جدائی پر اور ایک رنگ میں ہمیشہ کی جدائی پر غم کے آنسو بھی بہاتا ہے۔دل خوشی سے سینہ میں اچھلتا بھی ہے اور پہلو میں درد بھی اٹھ اٹھ کر بے چین کرتا ہے اور فطرتِ انسانی کے اس مخلوط فلسفہ کو خالقِ فطرت کے سوا کوئی نہیں سمجھ سکتا۔یہ اسی کی شان کبریائی ہے کہ ایک ہی وقت میں ایک ہی سینہ میں آگ و پانی کو جمع کر رکھا ہے۔آگ جلتی ہے مگر پانی اس کے پہلو میں پڑا ہوا اسے بجھا نہیں سکتا اور پانی ٹھنڈک پہنچا تا ہے مگر آگ اس کے پہلو میں پڑی ہوئی اس کی ٹھنڈک کو مٹا نہیں سکتی۔یہ آگ و پانی والا نظارہ ہر شادی والے گھر میں جہاں سے لڑکی رخصت ہوتی ہے ہر روز ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں دیکھنے میں آتا ہے اور لوگ کچھ خوشی کے گیت گا کر اور کچھ غم کے آنسو بہا کر دو چار دن میں خاموش ہو جاتے ہیں مگر عزیزہ امتہ احکیم سلمہا کا رخصتانہ اس کی مرحومہ امی کی یاد کی وجہ سے مسرت وخوشی کے ساتھ ساتھ غم والم کے عنصر کو ایسا بھڑ کانے والا تھا کہ اسے ایسی جلدی سے بھلایا نہیں جا سکتا۔سیدہ امِ طاہر مرحومہ جن کی وفات ۵ / مارچ ۱۹۴۴ء کو ہوئی اپنے اندر دو خاص اوصاف رکھتی