مضامین بشیر (جلد 2) — Page 40
مضامین بشیر دہلی میں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ کی مساعی ۱۵ اکتوبر (بذریعہ ڈاک ) حضرت امیر المومنین خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ نے ایک چٹھی ہزایکسلنسی وائسرائے کے نام بھجوائی ہے کہ گو جماعت احمد یہ ایک تبلیغی جماعت ہونے کی وجہ سے من حیث الجماعت لیگ میں شامل نہیں مگر موجودہ سیاسی بحران میں اس کی اصولی ہمدردی تمام تر لیگ کے ساتھ ہے اور ایک دوسری چٹھی میں حضور نے وائسرائے پر واضح فرمایا ہے کہ اگر خدانخواستہ موجودہ گفت وشنید نا کام ہوتی نظر آئے۔( گو خدا تعالیٰ کے فضل سے اس وقت کامیابی کی امید غالب ہے ) تو مایوس ہو کر اسے ناکام قرار دینے کی بجائے التواء کی صورت قرار دی جائے۔تاکہ اس عرصہ میں لیڈر بھی مزید غور کر سکیں اور پلک ( خصوصاً آزاد پبلک ) کو بھی اپنا اثر ڈالنے کا موقع مل سکے مگر اس صورت میں ضروری ہوگا کہ جس نکتہ پر نا کامی ہو رہی ہو ، اسے پبلک کے علم کے لئے ظاہر کیا جائے۔اسی مضمون کی وضاحت کے لئے حضور کی طرف سے دردصاحب ہر ایسلنسی وائسرائے کے پرائیویٹ سیکرٹری سے بھی مل چکے ہیں۔حضور کی طرف سے چودھری اسد اللہ خاں صاحب اور درد صاحب اور صوفی عبدالقدیر صاحب نواب زادہ لیاقت علی خاں صاحب اور سر سلطان احمد صاحب اور نواب صاحب چھتاری اور سر فیروز خاں صاحب سے بھی ملے ہیں۔مؤخر الذکر صاحب حضور سے ملنے کے لئے بھی آئے تھے مگر حضور جمعہ کے لئے باہر تشریف لے گئے ہوئے تھے۔خان بہادر علی قلی خاں صاحب سابق پولیٹیکل ایجنٹ صوبہ سرحد حضور کی ملاقات کے لئے آئے اور نواب صاحب چھتاری سابق گورنر یو۔پی نے علی گڑھ سے ایک تار کے ذریعہ حضور کی مساعی کے ساتھ ہمدردی اور اتحاد کا اظہار کیا۔بعض پر لیس کے نمائندے (چیف رپورٹر اخبار ڈان اور ڈائرکٹرز اور پینٹ پر لیس اور سری کرشن صاحب نمائندہ اندرا پتر کا وغیرہ ) بھی حضور سے ملاقات کر چکے ہیں اور حضور کی طرف سے صوفی عبد القدیر صاحب نے بعض امریکن اور انگریزی اخباروں کے نمائندوں سے ملاقات کر کے مسلمانانِ ہند کا نقطۂ نظر واضح کیا۔( مطبوعہ الفضل ۷ /اکتوبر ۱۹۴۶ء)