مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 482 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 482

مضامین بشیر ۴۸۲ عارضی الاٹمنٹ کے متعلق بعض ضروری تشریحات میری طرف سے متعدد اعلانات اس بارہ میں کرائے جاچکے ہیں کہ قادیان چونکہ ہمارا مقدس اور دائمی مرکز ہے، اس لئے قادیان کی جائیداد کے مقابلہ میں کوئی الاٹمنٹ ایسے رنگ میں نہیں کرانی چاہیئے کہ اس کے نتیجہ میں قادیان کی جائیداد پر اپنا حق ترک ہو جائے اور نہ ہی قادیان کی جائیداد کسی غیر مسلم کے پاس فروخت یا بذریعہ مستقل تبادلہ منتقل کرنی چاہیئے۔ان اعلانات پر بعض دوستوں کی طرف سے کچھ سوالات موصول ہوئے ہیں ، جن کا جواب ذیل میں دیا جاتا ہے۔ا۔پہلا سوال یہ ہے کہ کیا گورنمنٹ اپنے جدید فیصلہ کے مطابق عارضی الاٹمنٹ کی صورت منظور کرے گی۔سو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو ابھی تک دونوں حکومتوں نے ترک شدہ جائیدادوں پر اصل مالکوں کا حق قائم رکھا ہے اور جب تک یہ حق قائم ہے ، یہ اعتراض پیدا نہیں ہوسکتا۔اس لئے گورنمنٹ نے بھی موجودہ مستقل الاٹمنٹ کے ساتھ پرویژنل“ کا لفظ شامل کیا ہوا ہے تا کہ دونوں حکومتوں کے بعد کے فیصلہ کے لئے گنجائش رہے۔علاوہ ازیں خواہ گورنمنٹ کا نظریہ کچھ ہو ، ہمارا اپنی طرف سے یہ دینی اور اخلاقی فرض ہے کہ ہم درخواست دیتے ہوئے یہ اظہار کر دیں کہ قادیان ہمارا مقدس مقام ہے اور ہم اس کی جائیداد پر اپنا حق ترک نہیں کر سکتے اور یہ کہ جب بھی ہمیں قادیان واپس ملے گا ہم اپنی الاٹ شدہ جائیداد ترک کر دیں گے۔اس قسم کے اعلان اور اظہار کے بعد ہماری ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے اور قادیان کی بحالی پر اس کی جائیدادوں کے متعلق ہمارا حق قائم رہتا ہے۔۲۔دوسرا سوال قادیان کی شہری جائیداد (مکانات وغیرہ ) کے متعلق ہے ، جس کے متعلق ہر دو حکومتوں نے اب پرائیویٹ فروخت یا مستقل تبادلہ کی اجازت دی ہے۔اس بارہ میں ہماری طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ کوئی احمدی دوست کسی غیر مسلم کے پاس اپنی قادیان کی جائیداد فروخت نہ کریں اور نہ ہی بذریعہ مستقل تبادلہ منتقل کریں۔اس کے متعلق سوال کیا گیا ہے کہ اس سے کیا مراد ہے اور اس کی کیا غرض ہے۔سو اس کی غرض تو ظاہر ہے کہ جو شخص احمدی ہو کر قادیان کی جائیداد کسی غیر مسلم کے پاس فروخت کرتا ہے یا مستقل تبادلہ کی صورت منظور کرتا ہے ، وہ گو یا خود اپنے ہاتھ سے قادیان کی جائیداد پر اپنا حق ترک کر کے اسے غیر مسلموں کے حوالے کر دیتا ہے اور یہ صورت قادیان کی جائیدادوں کے متعلق کسی صورت میں قبول نہیں کی جاسکتی۔کسی حکومت کا ہمیں ہمارے مقدس مرکز