مضامین بشیر (جلد 2) — Page 450
مضامین بشیر ۴۵۰ کثرت اولا دوالے مضمون کے متعلق بعض ضروری تشریحات چند دن ہوئے میں نے کثرت اولاد کی اہمیت کی طرف توجہ دلانے کے لئے ایک مضمون الفضل میں شائع کرایا تھا۔اس مضمون میں غلطی سے حضرت اسحاق کی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم کی عمر نوے سال لکھی گئی ہے حالانکہ بائیبل کے بیان کے مطابق اس وقت حضرت ابرا ہیم کی عمر پورے ایک سو سال تھی ( پیدائش باب ۲۱ آیت (۵) اور بائبل میں یہ بھی صراحتاً لکھا ہے کہ اس وقت حضرت الحق کی والدہ سارہ نہ صرف عمر کے لحاظ سے بہت بوڑھی ہو چکی تھیں۔بلکہ ان کے ایام ماہواری بھی بند ہو چکے تھے۔( پیدائش باب ۱۸ آیت ۱۱) مگر با وجود اس کے خدا نے اپنے خاص الخاص فضل سے اس بوڑھے جوڑے کو بچہ عطا فر مایا۔وَذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَاءُ وَمَنْ يَّقْنُطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهِ إِلَّا الضالون - اس مضمون کے تعلق میں مجھے ایک صاحب نے کہا ہے کہ تم نے کثرت اولاد کی طرف تو جماعت کو توجہ دلائی مگر کثرت اولاد کے سب سے بڑے ذریعہ یعنی تعداد ازدواج کا کوئی ذکر نہیں کیا۔میں نے ان سے عرض کیا کہ یہ کوئی ایسی چیز تو نہیں تھی کہ جسے میں بھول جاتا۔اس لئے آپ کو سمجھ لینا چاہیے تھا کہ میں نے اس کا ذکر دانستہ ترک کیا ہے۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جہاں قرآن شریف نے تعداد ازدواج کی اجازت دی ہے۔وہاں اس اجازت کے ساتھ ان بھاری ذمہ داریوں کی طرف بھی توجہ دلائی ہے جو ایک سے زیادہ شادی کرنے والے مسلمان پر عائد ہوتی ہیں۔اور یہ ذمہ داریاں ایسی ہیں کہ ان کا تارک ثواب کمانا تو الگ رہا بھاری گناہ کا مرتکب ہو جاتا ہے۔پس میرے لئے ہرگز مناسب نہیں تھا کہ میں تعدّ دازدواج کی طرف توجہ دلاؤں مگر ان ذمہ داریوں اور شرائط کے ذکر کو ترک کر دوں جو اس اجازت کے ساتھ وابستہ ہیں۔اور ذمہ داریوں اور شرائط کے ذکر میں جانا میرے مضمون کو بہت لمبا کر دیتا۔حالانکہ اس مضمون میں میری غرض صرف ایک عام اور سہل علاج کی طرف توجہ دلانی تھی۔ایک دوسرے دوست لکھتے ہیں کہ اگر کثرت اولاد کی وجہ سے کسی غریب پر غیر معمولی بوجھ پڑ جائے اور وہ اس کے نتیجہ میں اپنی اولاد کی خاطر خواہ تربیت نہ کر سکے تو اس کا کیا علاج ہے یا غالباً ان