مضامین بشیر (جلد 2) — Page 440
مضامین بشیر ۴۴۰ جائے مگر ہم نعوذ باللہ احمدیت کی تعلیم اور خدمت اسلام کے کام کو چھوڑ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض وغایت کی طرف سے غافل ہو جائیں تو قادیان کا واپس ملنا ہمارے لئے کوئی حقیقت نہیں رکھے گا۔بلکہ ہمیں خدا کے حضور اور بھی موردِ الزام ٹھہرانے کا موجب بن جائے گا۔لیکن اگر دوسری طرف ہمیں بالفرض قادیان تو ابھی نہ ملے مگر ہم خدا کے علم میں احمدیت اور اسلام کے مقاصد کو پورا کرنے والے بن جائیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض وغایت ہمارے ذریعہ سے پوری ہوتی جائے تو اس میں کیا شبہ ہے کہ قادیان سے محرومی کے باوجود ہم خدا کے سامنے سرخرو ہوں گے اور خدا تعالیٰ ہمیں ان فضلوں اور رحمتوں کا وارث بنائے گا جو احمدیت کی کامیابی اور اسلام کی ترقی کے ساتھ وابستہ ہیں۔پس میرے عزیز و اور دوستو اور بزرگو ! قادیان کی یاد کی شدت کے باوجود اس نکتہ کو کبھی نہ بھولو کہ ہمارے سامنے اصل چیز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض و غایت کو پورا کرنا ہے۔اور باقی ہر چیز ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔قادیان انشاء اللہ واپس ملے گا اور ضرور ملے گا مگر تم اس مرکزی نقطہ سے کبھی غافل نہ ہو کہ اس کا واپس ملنا نمبر ۲ پر ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خدا داد مشن کی تکمیل نمبرا پر۔کیونکہ حضور کے مشن کی تکمیل ایک روح ہے اور قادیان کی واپسی ایک جسم۔اگر خدا کو یہی منظور ہو تو وہ روح کو ایک وقت تک دوسرا جسم بھی دے سکتا ہے لیکن اگر خدانخواستہ روح پر موت آجائے تو کوئی جسم اس کے کام نہیں آ سکتا۔قادیان کب واپس ملے گا مگر جیسا کہ میں نے اوپر کہا ہے قادیان انشاء اللہ واپس ملے گا اور ضرور ملے گا اور دنیا کی کوئی طاقت اس کی واپسی میں روک نہیں بن سکتی کیونکہ : قضائے آسمانست ایں بہر حالت شود پیدا لیکن یہ کہ وہ کب واپس ہوگا۔یہ خدا کے غیبوں میں سے ایک غیب ہے جسے صرف وہ عالم الغیب ہستی ہی جانتی ہے جس نے اس قسم کے غیبوں کی کنجی اپنے ہاتھ میں رکھی ہے۔مگر دو باتیں ایسی ہیں جو اس تعلق میں میرے ذہن میں آتی ہیں۔ان میں سے ایک کا اشارہ تو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات سے سمجھا ہے اور دوسری کے متعلق میرا عقلی قیاس ہے اور میں اپنے دوستوں کی اطلاع کے لئے ان دو باتوں کو درج ذیل کرتا ہوں : پہلی بات یہ ہے کہ مجھے تذکرہ کے مطالعہ سے پتہ لگتا ہے (مگر میں اس جگہ اس کے دلائل نہیں دوں گا) کہ قادیان کی واپسی انشاء اللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کی زندگی میں ہی ہو جائے گی۔