مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 30 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 30

مضامین بشیر مطالبہ ایک جائز فطری مطالبہ ہے جس کے متعلق دوسرے ایک ہمدرد کی حیثیت سے مخلصانہ مشورہ پیش کرنے کا حق تو بے شک رکھتے ہیں مگر اسے استبدادی رنگ میں رد کر نے کا حق نہیں رکھتے۔اس جگہ اوپر کے سوال کا دوسرا پہلو سامنے آتا ہے کہ آیا قوموں کا حق خود اختیاری جسے آج کل کی سیاسی اصطلاح میں رائٹ آف سلف ڈیٹرمینیشن Right of self Determination کہتے ہیں ایک غیر مشروط حق ہے جو ہر صورت میں ہر قوم کو حاصل ہونا چاہیئے یا کہ وہ بعض خاص شرائط اور بعض خاص حالات کے ساتھ مشروط ہے اور صرف اسی صورت میں کسی قوم کو یہی حق حاصل ہوتا ہے جبکہ اس میں یہ خاص شرائط اور یہ خاص حالات پائے جائیں ؟ یہ وہ اہم سوال ہے جو دراصل اس ساری بحث کی جان ہے۔کہا جاتا ہے کہ دنیا میں کوئی حق بھی خواہ وہ افراد سے تعلق رکھتا ہو یا کہ اقوام سے غیر مشروط طور پر یعنی گردو پیش کے حالات سے آزاد ہو کر محض فلسفیانہ رنگ میں قابل قبول نہیں ہوتا بلکہ جس طرح دنیا میں ہر چیز کو ایک نسبتی حیثیت حاصل ہے اسی طرح قوموں کا حق خود اختیاری بھی غیر مشروط نہیں بلکہ گرد و پیش کے حالات کی روشنی میں نسبتی حیثیت رکھتا ہے۔اور سارے حالات کے ساتھ سموئے جانے کے قابل عمل ہوتا ہے وغیرہ ذالک۔ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اصولاً یہ نظریہ درست ہے مگر اس کا مطلب نہیں کہ گردو پیش کے حالات کو اتنی اہمیت دے دی جائے کہ ان کی وجہ سے کسی قوم کا اصل حق ہی باطل ہو جائے یا یہ کہ گردو پیش کے حالات کو آڑ بنا کر کسی قوم کو اس کے جائز حق سے محروم کر دیا جائے۔اگر مسلمانوں کو اس قسم کی وجوہات کی بناء پر ان کے حقوق سے محروم کیا جائے تو یقیناً یہ اسی قسم کا ظلم ہوگا جو آج تک انگریز آمریت ہندوستان کو اس کی آزادی سے محروم رکھنے کے لئے روا رکھتی آئی ہے۔دراصل حق آزادی خالق فطرت کی پیدا کردہ موٹر پاور ہے اور گردو پیش کے حالات زیادہ سے زیادہ ایک بریک کی حیثیت رکھتے ہیں اور کوئی عقلمند انسان بر یک کے استعمال کو اس حد تک نہیں پہنچا تا کہ موٹر ایک ناکارہ وجود بن کر ہمیشہ کے لئے کھڑی ہو جائے۔موٹر بہر حال چلنے چلانے کے لئے بنی ہے اور بریک کا وجود صرف موٹر کو اپنے رستہ سے اکھڑنے اور دوسرے ٹریفک کے ساتھ ٹکرانے سے بچانے کے لئے مقصود ہے اور جو شخص اس بریک کو موٹر کے ناکارہ کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے وہ یقیناً یا تو ایک نادان دوست ہے اور یا ایک بدنیت دشمن۔اس نظریہ کے ماتحت اگر ہم غور کریں تو قوموں کا حق خود اختیاری پانچ اہم شرطوں کے ساتھ مشروط قرار پاتا ہے۔پس جہاں بھی یہ شرطیں پائی جائیں گی وہاں کسی دوسرے بہانہ کی آڑ لے کر کسی قوم کو اس کے حق خود اختیاری سے محروم کرنا ایک ظلم عظیم ہو گا لیکن جہاں یہ شرطیں نہیں پائی جائیں گی وہاں کسی قوم کا حق خود اختیاری کا مطالبہ کرنا بھی جائز نہیں سمجھا جائے گا۔بلکہ اس صورت میں اس قوم کا فرض ہوگا کہ اپنی ہمسایہ قوموں کے ساتھ مل کر کوئی