مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 395 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 395

۳۹۵ مضامین بشیر کم از کم اس نسخہ کو آزما کر دیکھیں کہ جس طرح وہ اپنی ضرورت کے لئے قرض لیتے ہیں اسی طرح اور اسی توجہ کے ساتھ ایک قرض خواہ کو اس کی رقم واپس کرنے کے لئے بھی قرض لے لیا کریں۔اس طرح ایک تو وہ خالق اور مخلوق کی نظر میں بد معاملہ نہیں ٹھہریں گے اور دوسرے ان کا قرض خواہ آئندہ انہیں قرض دینے میں زیادہ بشاشت محسوس کرے گا۔پھر اگر بالفرض ان کے پاس اس تیسرے شخص کی رقم واپس کرنے کے وقت بھی روپیہ نہ ہو تو وہ کسی چوتھے شخص سے قرض لے لیں اور اس تیسرے شخص کو واپس کر دیں۔اگر وہ کچی نیت سے اس طریق کو اختیار کریں گے اور اس عرصہ میں اصل رقم پیدا کرنے کے لئے بھی کوشاں رہیں گے تو میں یقین کرتا ہوں کہ خدا ان کے کاموں میں برکت عطا کرے گا اور وہ دنیا میں بھی سرخرو ہوں گے اور دین میں بھی۔خدا کرے کہ میرا یہ نوٹ ہمارے عزیزوں اور دوستوں کے دلوں میں گھر کر سکے اور وہ لوگوں کے حقوق ادا کرنے میں ایسا نمونہ دکھا ئیں جس کی اسلام ہم سے توقع رکھتا ہے۔باقی رہا یہ سوال کہ اگر کسی شخص کو با وجود بچی کوشش اور توجہ کے کسی قرض خواہ کا روپیہ واپس ادا کرنے کے لئے قرض نہ ملے تو وہ کیا کرے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو میں امید نہیں کرتا کہ خدا ایسی کچی کوشش کو ضائع کرے۔لیکن اگر واقعی حقیقی مجبوری کی صورت پیدا ہو جائے (اور خدا ہی جانتا ہے کہ حقیقی مجبوری کون سی ہے ورنہ اکثر لوگ اپنے نفس کے بہانوں کو ہی مجبوری خیال کرنے لگ جاتے ہیں ) تو اسے چاہیے کہ کم از کم اپنے متکبر سر کو نیچا کر کے عجز اور انکسار کے ساتھ قرض خواہ سے معذرت کرے اور اسے مزید مہلت حاصل کرنے کی درخواست دے۔پہلے تو اپنی ضرورت کے لئے قرض لینا اور پھر وقت پر ادا نہ کرنا اور پھر قرض خواہ کی طرف سے مطالبہ ہونے پر شرمندہ ہونے اور معذرت کرنے کی بجائے اسے سامنے سے آنکھیں دکھانا اور بداخلاقی کے ساتھ پیش آنا ایک ایسا گندا خلق ہے کہ جسے اسلام کا خدا سخت نفرت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تو یہ پاک نمونہ ہے کہ ایک دفعہ ایک غیر مسلم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا کچھ قرض دیا ہوا روپیہ واپس لینا تھا اور میعاد پوری ہونے سے پہلے ہی وہ آپ کے پاس آکر سختی کے ساتھ مطالبہ کرنے لگا حتی کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گلے میں کپڑے کا پٹکا ڈال کر اسے زور کے ساتھ کھینچا۔مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی ملامت نہیں کی بلکہ جب ایک صحابی نے آگے بڑھ کر اسے الگ کرنا چاہا اور اسے قبل از وقت مطالبہ کرنے پر ملامت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جانے دو اور اسے کچھ نہ کہو۔کیونکہ گو ابھی میعاد پوری نہیں ہوئی لیکن بہر حال یہ قرض خواہ ہے اور میں مقروض ہوں اور مجھے زیبا نہیں کہ اس کے بے وقت مطالبہ پر بھی سامنے سے بداخلاقی کے ساتھ پیش آؤں۔