مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 373 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 373

۳۷۳ مضامین بشیر کرو، بچوں کو نہ مارو، بوڑھے لوگوں پر وار نہ کرو اور مذہب کے لئے زندگیاں وقف رکھنے والے لوگوں کو اپنا نشانہ نہ بناؤ۔حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ تاکید فرماتے تھے کہ لاتقتلوا وليداً ولا امرأةً ولا شيخافا نيا ولا تقتلوا اصحاب الصوامع ۱۱۵ یعنی بچوں کو قتل نہ کرو اور نہ ہی عورتوں پر ہاتھ اٹھاؤ اور نہ ہی بوڑھے لوگوں کو نشانہ بناؤ اور نہ ہی مذہبی عبادت گاہوں کے لوگوں کو قتل کرو۔اس اصولی ہدایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فاتح مسلمانوں کے لئے ایک ایسی بر یک مہیا فرما دی ہے کہ ان کے غلبے اور فتح کا انجمن خواہ کتنے ہی زوروں پر ہو وہ کبھی بھی ظلم کی طرف ہاتھ نہیں بڑھا سکتے۔اس ہدایت کے ماتحت دشمن کا ہر بچہ اور دشمن کی ہر عورت اور دشمن کا ہر بوڑھا اور دشمن قوم کا ہر وہ شخص جو اپنی زندگی خالص مذہبی خدمت کے لئے وقف رکھتا ہے، محفوظ کر دیا گیا ہے اور ہر مسلمان اپنے جوش کی حالت میں بھی جب کہ فتح کا خما را اکثر دماغوں کو ماؤف کر دیتا ہے اس ہدایت کا پابند قرار دیا گیا ہے کہ کمزور اور مذہبی لوگوں سے اپنے ہاتھ کو روک کر رکھے۔اسی طرح ایک دوسری حدیث میں غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کو بھی محفوظ قرار دیا گیا ہے۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ حضرت ابوبکر خلیفہ اول رضی اللہ عنہ جب بھی کوئی فوجی دستہ روانہ فرماتے تو اس کے امیر کو یہ نصیحت فرماتے تھے کہ : الذين زعموا انهم جَسَوُا انفسهم لله فذرهم وما زعموا انهم جَسَوُا انفسهم له یعنی جن لوگوں نے اپنے خیال کے مطابق اپنے آپ کو خدا کی عبادت اور اللہ کی خدمت کے لئے وقف کر رکھا ہے۔ان پر کسی صورت میں بھی ہاتھ نہ اٹھاؤ اور اسی طرح وہ عبادت گاہیں یا وہ چیز میں جن کو وہ مقدس سمجھتے ہیں انہیں بھی ہر گز نقصان نہ پہنچاؤ۔یہ وہ اسلامی ضابطہ جنگ ہے جو مسلمانوں کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے اور اس سارے ضابطے کا خلاصہ یہ ہے کہ (۱) پہل نہ کرو (۲) دشمن کے مقابلہ کے لئے ہر وقت تیار رہو (۳) تمام ان تدبیروں اور سامانوں کو اختیار کرو جو خدائی قانون کے ماتحت کامیابی کے لئے ضروری ہیں۔(۴) ایک باقاعدہ پروگرام کے مطابق صبر و استقلال کے ساتھ کام کرو ( ۵ ) سرحدوں کو مضبوط بناؤ ( ۶ ) اگر لڑائی پیش آئے تو ایک اپنی دیوار کی طرح ڈٹ کر مقابلہ کرو ( ۷ ) میدان جنگ سے کسی صورت میں نہ بھا گو ( ۸ ) درمیانی تکلیفوں سے نہ گھبراؤ اور یقین رکھو کہ عاقبت بہر حال تمہاری ہے۔