مضامین بشیر (جلد 2) — Page 368
مضامین بشیر ۳۶۸ میدان جنگ سے بھاگنا منع ہے سوائے اسکے کہ جنگی تدبیر کے طور پر کوئی نقل وحرکت کی جائے: اس کے بعد قرآن شریف یہ تعلیم دیتا ہے کہ جب مسلمان چوکس و ہوشیار بھی ہوں اور جنگی سامانوں سے آراستہ بھی رہیں اور سرحدوں کو مضبوط بھی کر لیں اور بُنیان مرصوص بھی بن جائیں اور خدا سے دست بدعا بھی رہیں تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ میدان جنگ میں پیٹھ دکھانے کا موقع آئے بلکہ میدان میں پیٹھ دکھانا وہ چیز ہے جسے اسلام بڑی سختی کے ساتھ نا جائز قرار دیتا ہے۔چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے : يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيْتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوهُمُ الْأَدْبَارَةٌ وَمَنْ يُوَلِّهِمْ يَوْمَذٍ دُبُرَةً إِلَّا مُتَحَرْفًا لِقِتَالٍ أَوْ مُتَحَيْرًا إِلَى فِئَةٍ فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِنَ اللهِ وَمَاونَهُ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ یعنی اے مومنو جب تم لشکر کی صورت میں کافروں کے سامنے آؤ تو پھر کسی حال میں بھی انہیں پیٹھ نہ دکھایا کرو اور جو شخص ایسے وقت میں پیٹھ دکھائے گا سوائے اسکے کہ وہ کسی جنگی تدبیر کے لئے ادھر اُدھر ہٹنے کا طریق اختیار کرے یا مومنوں کی کسی دوسری پارٹی کے ساتھ ملاپ کر کے دشمن کا مقابلہ کرنا چاہے تو وہ خدا کے غضب کو اپنے سر پر لے گا اور اس کا ٹھکانہ جہنم کی آگ ہے اور یہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔ر بے شک یہ آیت دینی جنگوں کے لئے ہے لیکن اس میں وہ دائی اصول بیان کیا گیا ہے جسے ایک مجاہد مومن کو اپنے لئے مشعل راہ بنانا چاہیئے۔یہ اصول یہ ہے کہ جب ایک دفعہ ایک مومن کسی کافر کے مقابلہ پر آ جائے تو پھر اس کے لئے پیٹھ دکھانے کا سوال ختم ہو جاتا ہے اور اس صورت میں ایک سچے مومن کا یہی فرض رہ جاتا ہے کہ یا تو لڑے اور فتح پائے اور یا لڑے اور جان دیدے۔ہاں بے شک دو صورتیں یہ ایسی ہیں کہ جن میں مومنوں کی پارٹی اگر ضروری خیال کرے تو دشمن کے سامنے سے وقتی طور پر ہٹنے کا طریق اختیار کر سکتی ہے۔بھاگنے کے لئے ہر گز نہیں بلکہ صرف جنگی تدبیر کے طور پر۔یہ دو صورتیں ہیں (اول) یہ کہ جنگی تدبیر کے طور پر کسی مومن پارٹی کو اپنی جگہ بدلنی پڑے اور وہ یہ سمجھے کہ اس کے واسطے لڑنے کا یہ مقام اچھا نہیں بلکہ وہ مقام اچھا ہے اور (دوسرے ) یہ کہ اس کے اپنے ساتھیوں کی کوئی اور پارٹی کسی قریب یا دور کے مقام پر موجود ہو اور وہ سارے حالات کو دیکھ کر اور