مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 356 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 356

مضامین بشیر ۳۵۶ آپ یہ رقم میری طرف سے انہیں پہنچا دیں۔میں جانتا ہوں کہ منور مرحوم کی مالی حالت ہرگز ایسی نہیں تھی کہ وہ اتنی رقم خود پیدا کر سکے یا قرض اٹھا کر اسے آسانی سے اتار سکے مگر محض بوڑھی والدہ کی محبت میں اُس نے یہ بوجھ اٹھایا اور پھر خدا نے اُسے اس قرض کے اتارنے کی بھی توفیق دیدی۔اسی طرح ایک دفعہ عزیز مرحوم کے ایک قریبی عزیز کے ساتھ میرا کچھ اختلاف ہو گیا تھا اور مجھے یاد نہیں کہ منور نے مجھے امریکہ سے کبھی کوئی ایک خط بھی ایسا لکھا ہو جس میں یہ نہ پوچھا ہو کہ کیا فلاں عزیز کے ساتھ آپ کی صلح صفائی ہو گئی ہے اور اس کے ساتھ ہی مجھے یہ تحریک نہ کی ہو کہ آپ بڑے ہیں آپ اپنے دل سے رنجش نکال دیں۔میں نے عزیزم مرحوم کو ہر خط میں تسلی دلائی کہ اختلاف کا دور ہونا اور بات ہے مگر تم تسلی رکھو کہ خدا کے فضل سے میرے دل میں کینہ نہیں ہے اور میں اس حالت میں بھی تمھارے اس عزیز کے لئے ہمیشہ دُعا کرتا ہوں۔الغرض کیا بلحاظ دین کے اور کیا بلحاظ اخلاق کے اور کیا بلحاظ رشتہ داری کے حقوق کے اور کیا بلحاظ دوست نوازی کے مرحوم ایک بہت ہی نیک اور قابل قدر نو جوان تھا۔میری یہ دلی دُعا ہے کہ خدا اسے غریق رحمت کرے اور اسے جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور گو وہ غیر شادی شدہ تھا۔اور اس نے کوئی اولاد پیچھے نہیں چھوڑی مگر خدا اسے ایسے دوست اور ایسے عزیز عطا کرے جو اس کے لئے ہمیشہ دعا گو ر ہیں اور اس کی یاد کو زندہ رکھیں۔آمین یا الرحم الراحمین۔مرحوم کی وفات کا ایک تلخ پہلو ایسا ہے جس کے ذکر سے میں ( با وجود اس علم کے کہ اس کے بیان سے میرے دل کا درد بڑھ جائے گا ) نہیں رک سکتا۔یہ پہلو مرحوم کی والدہ کے اوپر تلے کے صدمات سے تعلق رکھتا ہے۔مرحوم کی والدہ جو ہمارے بڑے ماموں مرحوم کی ساس ہیں۔اس وقت غالباً سیتر سال کی ہوگی لیکن خدا کی کسی بار یک در بار یک حکمت کے ماتحت ان کی زندگی کے آخری ایام بہت تلخی میں گزرے ہیں۔سب سے پہلے ان کا ایک نو جوان بیٹا محمد احمد جو تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں پڑھتا تھا مرض سل میں مبتلا ہو کر خدا کو پیارا ہوا۔اس کے چند سال بعد ان کے خاوند بزرگوار مرزا محمد شفیع صاحب مرحوم جنہیں اپنے زندگی کے آخری سالوں میں کا رکن صدر انجمن احمد یہ کے طور پر خدمت سلسلہ کی خاص توفیق حاصل ہوئی ، ان کی غیر حاضری میں دتی کے ہسپتال میں لمبی بیماری کاٹ کر فوت ہوئے۔اور منور مرحوم کی والدہ صاحبہ کو اپنے نیک اور دیر بینہ رفیق کی آخری خدمت کا موقع نہیں مل سکا۔اس کے بعد ان کے داماد اور ہمارے ماموں حضرت میر محمد اسماعیل صاحب علیہ الرحمت کی وفات کا صدمہ پیش آیا جو جماعتی لحاظ سے بھی ایک بہت بھاری صدمہ تھا کیونکہ : کم بزاید مادرے با این صفا در یتیم