مضامین بشیر (جلد 2) — Page 348
مضامین بشیر ۳۴۸ قادیان کے دوستوں کے ذریعہ بحال شدہ مسلمان اب تک ۱۳۴ اشخاص بحال ہو چکے ہیں اس وقت ہمارے قادیان کے احباب جس حالت میں زندگی گزار رہے ہیں وہ عملاً قید سے بہتر نہیں۔کیونکہ وہ ایک مختصر سے حلقہ میں محدود و محصور ہیں۔اور انہیں اس حلقہ سے تھوڑا بہت ادھر اُدھر جانے کے لئے بھی پولیس یا ملٹری کی امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔گویا قید خانہ کی بجائے چند ر ہائشی مکان ہیں جن میں یہ لوگ خدا کے فضل پر بھروسہ رکھتے ہوئے اپنی مقدس یادگاروں کی آبادی کے لئے محصور ہوئے بیٹھے ہیں۔مگر باوجود اس کے وہ حکومت پاکستان اور حکومت ہندوستان کے مشترکہ فیصلہ اور مشترکہ پالیسی کے ماتحت قادیان کے گردونواح سے اغوا شدہ مسلمان عورتوں یا محصور شده مسلمان مردوں کے نکالنے میں دن رات کوشاں رہتے ہیں۔چنانچہ قادیان کی تازہ رپورٹ سے پتہ لگتا ہے کہ اس وقت تک ہمارے قادیان کے دوستوں کے ذریعہ ایک سو چونتیس مرد وزن بحال ہو کر پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ان ۱۳۴ مرد و زن میں کے مسلمان عورتیں ہیں اور ۵۷ مسلمان مرد ہیں۔جو سب کے سب قادیان کے ملحقہ دیہات سے خاص جد و جہد کے ساتھ ایک ایک کر کے پاکستان بھجوائے گئے ہیں۔قادیان کے حالات کے ماتحت یہ کارنامہ یقیناً ایک خاص خدمت کا رنگ رکھتا ہے۔جس کا ہر دو حکومتوں کو جن کی مشترکہ پالیسی کے ماتحت یہ کوشش کی جارہی ہے شکر گزار ہونا چاہیے ، خصوصاً اس لئے کہ سرحدی ضلع ہونے کی وجہ سے اور ریاست کشمیر کے ساتھ ملحق ہونے کے باعث گورداسپور کے ضلع میں مسلمان ملٹری یا مسلمان پولیس کا جانا ممنوع ہے۔اس لئے اس ساری کوشش اور اس ساری کامیابی کا سہرا صرف ہمارے دوستوں کے سر ہے۔یا دو ایک ایسے شریف النفس غیر مسلم افسروں کے سر جنہوں نے اپنی قوم اور دوسرے غیر مسلم افسروں کی مخالفت کے باوجود اس نیک کام میں ہاتھ بٹایا ہے۔- ( مطبوعه الفضل ۵ ستمبر ۱۹۴۸ء)