مضامین بشیر (جلد 2) — Page 340
مضامین بشیر ۳۴۰ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہر درد مند اور سمجھ دار مسلمان کے لئے غور کا مقام جیسا کہ الفضل میں شائع ہو چکا ہے، کوئٹہ سے اطلاع ملی ہے کہ ڈاکٹر میجرمحمود احمد صاحب احمدی بعض مسلمانوں کے ہاتھوں قتل کر دیئے گئے ہیں۔انا اللہ وانا الیہ راجعون۔ڈاکٹر صاحب موصوف کی شہادت ہماری اطلاع کے مطابق صرف اس بناء پر وقوع میں آئی ہے کہ وہ جماعت احمدیہ سے تعلق رکھتے تھے۔اور ایک ایسے پبلک جلسہ کے قریب سے گزرے جو کوئٹہ میں جماعت احمد یہ کے خلاف منعقد کیا جا رہا تھا۔رپورٹ یہ ہے کہ اس موقع پر بعض جو شیلے لوگوں نے ڈاکٹر صاحب موصوف کو دیکھ کر پہلے تو ان کو پتھروں سے زخمی کیا اور پھر پیٹ میں چھرا گھونپ کر شہید کر دیا۔میجر ڈاکٹر محمود احمد جو فوج سے فارغ ہو چکے تھے اور اب کوئٹہ میں پریکٹس کرتے تھے ، قاضی محمد شریف صاحب ریٹائر ڈایگزیکٹو انجینئیر لائل پور کے فرزند اور لاہور کے مشہور ڈاکٹر محمد بشیر صاحب پروفیسر کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور اور قاضی محمد اسلم صاحب ایم۔اے پروفیسر گورنمنٹ کالج کے حقیقی بھیجے تھے۔اور اس جگہ اس اظہار کی چنداں ضرورت نہیں کہ ذاتی لحاظ سے بھی مرحوم ایک نہایت ہی شریف الطبع اور ہونہار نوجوان تھے۔جس نے اپنے پیچھے ایک بیوہ اور ایک خوردسالہ بچہ چھوڑا ہے۔موت فوت تو ہر انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔اور جلد یا بدیر ہر شخص نے نیچر کے اس اہل دروازہ میں سے گزرنا ہے۔اور پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کی حکومت میں (جیسا کہ ہر دوسری حکومت میں ) با ہمی لڑائیوں اور ڈکیٹیوں وغیرہ کی وجہ سے بسا اوقات قتل کے واقعات ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات خود مسلمانوں کے ہاتھ سے ہی مسلمانوں کا خون گرایا جاتا ہے۔لیکن یقیناً کوئٹہ کا یہ واقعہ پاکستان کی تاریخ میں اس لحاظ سے پہلا واقعہ ہے کہ ایک پر امن مسلمان شہری کو محض بعض مذہبی عقائد کے اختلاف کی وجہ سے بعض دوسرے مسلمانوں نے شہید کر دیا ہے۔اول تو ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے ہاتھ سے مارا جانا ہی فی ذاتہ ایک نہایت درجہ دردناک اور قابل ملامت فعل ہے۔لیکن جب ایسے فعل کی بنیاد محض مذہبی عقائد کے اختلاف پر مبنی ہو تو پھر یہ فعل ایسی ہولناک صورت اختیار لیتا ہے کہ اس سے زیادہ بھیا نک فعل کوئی اور تصور میں نہیں آسکتا۔یہ خیال کہ احمد یہ جماعت کے لوگ اپنے بعض عقائد کی وجہ سے بعض دوسرے مسلمانوں کی نظر میں سچے