مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 339 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 339

۳۳۹ مضامین بشیر میرا جو ود ضلعوار آبادی والے مضمون کا تمہ اگر سابقہ کھاتوں کی بناء پر الاٹمنٹ ہوئی تو پھر کیا ہوگا ؟ و مضمون الفضل ۲۴ / اگست کو زیر عنوان ” پناہ گزینوں کی ضلعوار آبادی کا سوال شائع ہوا ہے۔اس کے متعلق ایک معزز اور واقف کار دوست نے یہ سوال کیا ہے کہ اگر جیسا کہ خیال ہے بعد میں مسلمان پناہ گزینوں کے سابقہ کھاتوں کی بناء پر آخری الاٹمنٹ کرنے کا فیصلہ ہوا تو پھر کیا ہوگا ؟ مثلاً اگر ایک مسلمان مشرقی پنجاب میں چھپیں ایکٹر زمین رکھتا تھا اور اسے مغربی پنجاب میں آکر موجودہ اصول کے مطابق صرف آٹھ ایکڑ زمین ملی ہے۔اور بعد میں فیصلہ ہو کہ اسے اس کے سابقہ کھاتوں کے بناء پر چھپیں ایکٹر زمین مل سکتی ہے۔مگر اتفاق یہ ہو کہ جہاں اس کی موجودہ آٹھ ایکٹر زمین موجود ہو وہاں اسے مزید سترہ ایکٹر زمین ملنے کی گنجائش نہ ہو تو پھر کیا کیا جائے گا۔سو اس سوال کے جواب میں میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اگر میرے یہ دوست میرے مضمون کو غور سے مطالعہ فرماتے تو میرے مضمون میں پہلے سے اس سوال کا جواب موجود تھا۔کیونکہ میں نے صراحتاً لکھا تھا کہ اگر کوئی مسلمان پناہ گزین اپنی جگہ بدلنے کے لئے تیار ہو تو اسے بدل دیا جائے مگر یہ کہ اس کی مرضی کے خلاف جبرانہ بدلا جائے۔اب اگر آٹھ ایکڑ لینے والا مسلمان پناہ گزین بعد کے فیصلہ کے مطابق ۲۵، ایکٹر زمین لینا چاہتا ہے اور اس کی موجودہ جگہ میں اس قدرا لائمنٹ کی گنجائش نہیں تو اس کا کیس میری شرط کے ماتحت آ جائے گا کہ جو مسلمان اپنی خوشی سے اپنی جگہ بدلنا چاہتا ہے اسے بدل دیا جائے۔لیکن اگر کوئی مسلمان کسی وجہ سے اپنی موجودہ جگہ پر ہی ٹھہر نا چاہتا ہے اور تھوڑے رقبہ پر قانع ہے تو پھر اس کا کیس میری دوسری شرط کے ماتحت آ جائے گا کہ کسی کو جبراً منتقل نہ کیا جائے۔بہر حال میرا مضمون اس سوال کے جواب پر اصولاً حاوی ہے۔جو ہمارے معزز دوست نے اٹھایا ہے اور کسی مزید تشریح کی ضرورت نہیں۔باقی رہے وہ مسلمان پناہ گزین جنہوں نے کسی وجہ سے موجودہ الاٹمنٹ میں حصہ نہیں لیا۔تو ظاہر ہے کہ اگر بالآخر سابقہ اور اصل جائدادوں کی بناء پر تقسیم کا فیصلہ ہوتو ایسے پناہ گزینوں کو بھی اپنی ضائع شدہ جائدادوں کے بدلہ میں مطالبہ کا حق ہوگا۔یہ ایک سیدھی اور صاف بات ہے۔جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔( مطبوعه الفضل ۲۶ / اگست ۱۹۴۸ء)