مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 329 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 329

۳۲۹ مضامین بشیر ہوتا اور اس کے بعد علاقہ وار تقسیم کی جاتی۔پس یہ سوال بالکل لاتعلق ہے اور قطعاً غیر مئوثر ہے کہ جو وقت سکیم بنانے میں خرچ ہوتا۔اس وقت پناہ گزین کہاں جاتے۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ صورت میں بعض پناہ گزین دس دس جگہ گھومے ہیں۔اور پھر کہیں جا کر انہیں سر چھپانے اور روٹی کھانے کی جگہ ملی ہے۔پس دراصل موجودہ صورت میں زیادہ وقت خرچ ہوا ہے۔اور ادھر اُدھر گھومنے میں جو غریب مہاجرین کا روپیہ خرچ ہوا ہے وہ مزید برآں ہے۔پس جس جہت سے بھی دیکھا جائے کسی عقلمند کے نزدیک اس بات میں شبہ کی گنجائش نہیں کہ اگر شروع میں ہی علاقہ وار آبادی کا انتظام ہوتا تو یقیناً یہ بہت بہتر تھا۔لیکن اب جبکہ مسلمان پناہ گزین جس طرح بھی ممکن ہوا بہت سی پریشانیوں اور اخراجات برداشت کرنے کے بعد مختلف علاقوں میں آباد ہو چکے ہیں تو انہیں دوبارہ اپنی جگہ سے اکھیڑنا اور اخراجات اور پریشانیوں کے چکر میں سے دوبارہ گزارنا بھی ہرگز دانشمندی کا طریق نہیں بلکہ ایسا کرنے کے یہ معنی ہوں گے کہ جو قیامت گزر چکی اسے پھر اپنے ہاتھوں سے دوبارہ پیدا کر دیا جائے۔میں یقین رکھتا ہوں اور میرے ذاتی معلومات بھی یہی ہیں کہ خود پناہ گزینوں کا اسی (۸۰) فیصدی حصہ اس چکر میں دوبارہ پڑنے اور اس دلدل میں دوبارہ پھنسنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ایک غلطی تھی جو ہو چکی اور یہ ایک معمولی غلطی نہ تھی بلکہ بہت بھاری غلطی تھی مگر بہر حال وہ گزر چکی۔اب اس غلطی کو درست کرنے کے لئے ایک دوسرا غلط اقدام اٹھا نا کسی صورت میں بھی مناسب نہیں۔اگر یہ قدم اٹھایا گیا تو نتیجہ یہ ہوگا کہ جس طرح انسانیت کا ایک بے پناہ سیلاب پہلے ایک حکومت سے دوسری حکومت کی طرف منتقل ہوا۔پھر دوبارہ یہی سیلاب مغربی پنجاب کے سولہ ضلعوں میں چکر کھانے لگے گا۔ایسا کرنے سے غریب پناہ گزین پہلے کی سی پریشانیوں یا کم از کم اس سے ملتی جلتی پر یشانیوں میں مبتلا ہوں گے۔وہی اخراجات کا سلسلہ یا اس سے ملتا جلتا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگا اور بے اصول کا رندوں کی ہتھیلیوں میں پھر پہلے کی سی کھجلی شروع ہو جائے گی۔پس میں اپنے مشرقی پنجاب کے ایم۔ایل۔اے دوستوں سے عرض کروں گا کہ وہ اب صبر سے کام لیں اور دو ہری مصیبت کا چکر کھڑا کرنے پر مصر نہ ہوں بے شک انہیں تکلیف ہوئی۔بے انتہا مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ان کے ووٹروں کا گلہ پریشان ہو کر تتر بتر ہو گیا۔اور ان کی آئیندہ اسمبلی کی نمائندگی بھی معرض خطر میں پڑ گئی۔لیکن ان سب باتوں کے باوجود اب عملی دانائی اسی میں ہے کہ جو کچھ ہو گیا اس میں مزید تغیر و تبدل پر زور نہ دیا جائے۔البتہ جیسا کہ مشترکہ کونسل نے فیصلہ کیا ہے یہ ضرور ہونا چاہیے کہ جولوگ اس وقت تک کیمپوں میں