مضامین بشیر (جلد 2) — Page 326
مضامین بشیر ۳۲۶ پناہ گزینوں کی ضلعوار آبادی کا سوال مغربی پنجاب کی حکومت اور مشرقی پنجاب کے ایم۔ایل۔اے صاحبان کو مخلصانہ مشورہ کچھ عرصہ سے پناہ گزینوں کی ضلعوار آبادی کا سوال اٹھا ہوا ہے۔اور متعدد اخبارات اس سوال کے متعلق اپنا اپنا خیال ظاہر کر چکے ہیں۔جو مسلمان ایم۔ایل۔اے مشرقی پنجاب سے آئے ہیں ، ان کا یہ مطالبہ ہے کہ مشرقی پنجاب کے پناہ گزینوں کو ضلعو ا ر آبادی کے اصول پر آبا د کیا جائے۔اور اس تعلق میں ان کا یہ بھی دعوئی ہے کہ مغربی پنجاب کی وزارت نے ان کے ساتھ ضلعوا ر آبادی کا وعدہ بھی کیا تھا۔مگر بعد میں مشترکہ کونسل میں جا کر اس وعدہ کو فراموش کر دیا۔اس کے علاوہ ان مشرقی ایم۔ایل۔اے صاحبان کا دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ ان میں سے کسی ایک کو وزارت میں لیا جائے اور یہ دونوں امور کافی طور پر زیر بحث آچکے ہیں۔اور اس بحث کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کے متعلق مختصر طور پر اظہار خیال کر کے بحث کے حل میں سہولت پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔وما توفیقی الا با الله العليم العظيم جہاں تک ضلعوار آبادی کا سوال ہے۔ایک بات بالکل واضح اور ظاہر وعیاں ہے کہ اگر شروع میں ہی جبکہ مشرقی پنجاب کے پناہ گزین سکھوں اور ہندوؤں کے مظالم سے بھاگے ہوئے مغربی پنجاب میں آئے تھے ، انہیں ضلعوا ر آبادی کے اصول پر آباد کیا جاتا تو بہر حال یہ بہت بہتر ہوتا اور اس کے ذریعہ سے بہت سی وہ خرابیاں جو آبادی کے انتظام میں واقع ہوئیں رک جاتیں۔ہر شخص جانتا ہے کہ پنجاب میں دیہات کی آبادی قوم وار اصول پر مبنی ہے۔یعنی ہر گاؤں میں ایک خاص نسل یا قوم یا قبیلے یا خاندان کے لوگ آباد ہوتے ہیں جن کا سلسلہ ایک مخصوص مورث اعلیٰ سے چلتا ہے۔اور ان لوگوں کے درمیان ایک متحدہ برادری کا رنگ قائم ہوتا ہے۔یہ سب لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہیں اور ایک دوسرے کی روایات کے واقف اور ایک دوسرے کے مزاجوں سے شناسا ہوتے ہیں اور اگر ورثہ وغیرہ کی تقسیم کے متعلق کوئی سوال پیدا ہوتا ہے تو ان لوگوں کا شجرہ نسب بھی گاؤں کے ہر شخص کو معلوم