مضامین بشیر (جلد 2) — Page 283
۲۸۳ مضامین بشیر یہ رویا غالبا ۱۸۹۲ ء یا اس کے قریب کا ہے اور اس میں جس گلی کا ذکر ہے، اس سے وہ گلی مراد ہے جو قادیان میں موجودہ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری یعنی قصر خلافت سے منور بلڈنگ کے چوک میں سے ہوتی ہوئی شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کے مکان کی طرف جاتی ہے۔جس کے آگے کشمیری آبادی کے مکانات ہیں اور یہ وہ گلی ہے جو گویا مرکز احمدیت کو قادیان کی بیرونی آبادی کے ساتھ ملاتی ہے۔اس رویا سے پتہ لگتا ہے کہ قادیان میں جماعت یا اس کے معتد بہ حصہ کا ابتدائی داخلہ ایسے حالات میں ہوگا کہ ایک غیر ہمدرد حکومت کے پیدا کردہ حالات اور اردگرد کی غیر مسلم آبادی کی اکثریت کی وجہ سے گویا قادیان کے اندر باہر تاریکی کا ماحول ہوگا۔جس میں جماعت کے لئے اپنے راستہ پر گامزن رہنا بہت مشکل ہو جائے گا۔اس وقت جماعت کی خشوع و خضوع کی دعا ئیں آسمان پر پہنچیں گی کہ اے ہمارے خدا ہم پر شفقت کی نظر فرما اور اپنے مقتدرانہ فضل و رحم کی تجلی سے ہمارے لئے اس تاریکی کے ماحول میں روشنی کا سامان پیدا کر دے اور ہماری رات کی ظلمت کو دن کے نور میں بدل دے۔(۳) اس پر ہمارا مہربان آسمانی آقا ہماری دعاؤں کو سنے گا اور جماعت کے لئے کامل آزادی اور کامل روشنی کا سامان پیدا کر دے گا۔چنانچہ اس تعلق میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام کے الفاظ یہ ہیں : گے۔“ ۱۶۰ نَرُدُّ إِلَيكَ الكَرَّةَ الثَّانِيَةَ وَتُبَدِّلَنَّكَ مِن بَعدِ خَوفِكَ آمَنَا - یعنی ہم تجھے پھر دوبارہ غالب کر دیں گے اور تیری خوف کی حالت کو امن کی حالت سے بدلیں (۴) اور پھر اس کی تشریح میں یہ شاندار الہام بھی نازل ہوئے کہ إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ القُرانَ لَرَادُّكَ إِلَى مَعَادٍ إِنِّي مَعَ الأفواج اتِيكَ بَغْتَةً يَا تِيكَ نُصْرَتِى إِنِّي أَنَا الرَّحْمَنُ ذُو الْمَجْدِ وَالعُلى یعنی وہ خدا جس نے تجھ پر قرآن فرض کیا۔یعنی جس نے تجھے اس زمانہ میں قرآنی علوم اور تجدید کے لئے مبعوث فرمایا وہ ضرور ضرور تجھے آخری لوٹنے والی جگہ کی طرف واپس بقیہ حاشیہ سابقہ: کے لئے میں نے بہت دعا کی ہے۔پھر میں نے دو کتے خواب میں دیکھے۔ایک سخت سیاہ اور ایک سفید ؛ اور ایک شخص کہ وہ کتوں کے پنجے کاٹتا ہے۔پھر الہام ہوا۔كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ - ۵۹