مضامین بشیر (جلد 2) — Page 16
مضامین بشیر 17 مسلم لیگ کا یہ مطالبہ چار ستونوں پر قائم ہے۔(الف) یہ کہ مسلمان نہ صرف اپنے لئے علیحدہ مذہب اور علیحدہ تہذیب و تمدن کے لحاظ سے بلکہ ہندوستان میں اپنی تعداد کے لحاظ سے بھی ایک مستقل قوم کی حیثیت رکھتے ہیں نہ کہ محض ایک اقلیت کی۔(ب) یہ کہ مسلمانوں کی قومی ضروریات ہندوؤں سے بالکل ممتاز اور جدا گانہ ہیں۔جو ایک علیحدہ اور آزاد نظام کے بغیر پوری نہیں ہوسکتیں۔(ج) یہ کہ ہندوستان میں عملاً ایسے صوبے موجود ہیں جن میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔اور عام جمہوری نظام کے ماتحت بھی ان صوبوں میں مسلمانوں کو حکومت کا حق حاصل ہے اور (د) یہ کہ ہندوستان میں مسلمانوں کا سابقہ تجر بہ بتاتا ہے کہ باوجود حفاظتی مراعات کے ہند وحکومت کے ماتحت مسلمانوں کے حقوق محفوظ نہیں رہ سکتے۔اور اس کے مقابل پر ہند و صاحبان بھی اپنے مطالبہ میں بلا دلیل نہیں ہیں۔کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ (الف) پاکستان بننے سے ہندوستان کی نہ صرف شان وشوکت بلکہ طاقت وقوت بھی خاک میں مل جاتی ہے۔اور وہ دنیا کے مضبوط ترین اور بہترین ملکوں کی صف سے نکل کر معمولی ملکوں کی صف میں آکھڑا ہوتا ہے۔(ب) یہ کہ جہاں اس زمانہ میں دنیا کے دوسرے ترقی یافتہ ملک آس پاس کے آزاد ملکوں کے ساتھ اتحادی معاہدات کے ذریعہ اپنی طاقت بڑھا رہے ہیں وہاں پاکستان کی تجویز ہندوستان کے حصے بخرے کر کے اسے اور بھی زیادہ کمزور کرنے کا رستہ کھول رہی ہے۔( ج ) یہ کہ ہندوستان کے ٹکڑے ہو جانے سے وہ آس پاس کے مضبوط ملکوں کا آسان شکار بن جائے گا اور انگریز کی غلامی سے بھاگتے ہی کسی اور قوم کی غلامی سہیڑ لے گا۔اور ( د ) یہ کہ پاکستان کے ذریعہ بھی ہندوستان کے فرقہ وارانہ مسائل کا کامل حل میسر نہیں آیا کیونکہ اگر مسلمان اکثریت والے صوبے پورے طور پر آزاد بھی ہو جائیں تو پھر بھی پاکستان اور باقی ماندہ ہندوستان ، دونوں میں مخلوط آبادی باقی رہتی ہے۔یعنی پاکستان میں کافی آبادی ہندوؤں کی رہتی ہے۔اور ہندوستان میں مسلمانوں کی۔پس جب پاکستان قائم کر کے بھی مرض جوں کا توں رہا تو پھر خواہ نخواہ ہندوستان کو کمزور کرنے کا کیا فائدہ ہے؟ (۴) مسلمانوں اور ہندوؤں کے موافق و مخالف دلائل میں پڑ کر مجھ پر یہ حقیقت بھی منکشف ہوئی کہ ہندو اس معاملہ میں بہت خوش قسمت ہے کہ بوجہ اس کے کہ وہ ہندوستان میں بھاری اکثریت رکھتا ہے وہ بڑی آسانی کے ساتھ اپنی فرقہ وارانہ ذہنیت کو نیشنل اصطلاحوں اور عام ملکی مفاد کے پردہ میں چھپا سکتا ہے۔اسے کبھی یہ کہنے کی ضرورت پیش نہیں آتی کہ یہ چیز ہند وکو دو کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جو چیز وہ ملک کے نام پر لے گا وہ لازماً اکثریت والی قوم کو پہنچے گی۔پس وہ اپنی قوم کا سوال اٹھانے کے بغیر قوم پروری کرتا چلا جاتا ہے اور اس کی فرقہ وارانہ ذہنیت اس کے اندر موجود ہوتے ہوئے بھی