مضامین بشیر (جلد 2) — Page 104
مضامین بشیر ۱۰۴ ساتھ سکھوں کا سمجھوتہ ہے۔مگر قطع نظر اس کے کہ اس سمجھوتہ کی تفصیل کیا ہے۔اور وہ سکھوں کے لئے کہاں تک مفید ہے۔کیا اس قسم کے وقتی اور عارضی سمجھوتہ کی بناء پر جو کل کوٹوٹ بھی سکتا ہے۔جس طرح کہ آج سے پہلے کئی دفعہ ٹوٹ چکا ہے۔سکھ قوم کے دور بین سیاست دان اپنی قوم کی متحدہ طاقت کو دوحصوں میں بانٹ کر تباہ کرنے کے لئے تیار ہو سکتے ہیں؟ اور پھر اگر کسی دوسری قوم کے ساتھ سمجھوتہ ہی کرنا ہے تو کیوں نہ مسلمانوں کے ساتھ سمجھوتہ کیا جائے۔جن کے ساتھ ہندوؤں کے مقابلہ پر سکھوں کا مذہبی عقائد اور تہذیب و تمدن اور اقتصادی وسائل اور فوجی روایات میں بھاری اشتراک پایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ میں نے اپنے اس مضمون میں اور بھی بہت سی باتیں لکھی تھیں۔جن کی اس جگہ اعادہ کی ضرورت نہیں۔میرے اس ہمدردانہ مشورہ کے جواب میں ایڈیٹر صاحب ” شیر پنجاب نے اور باتوں کو نظر انداز کر کے دو باتوں پر خاص زور دیا ہے۔اول یہ کہ موجودہ فسادات میں مسلمانوں نے جو ظلم سکھوں پر کئے ہیں وہ مسلمانوں کے ساتھ کسی قسم کے سمجھوتہ کے منافی ہیں اور سکھوں کے دلوں میں اعتماد پیدا نہیں ہونے دیتے۔دوسرے یہ کہ بے شک پنجاب کی موجودہ تقسیم میں سکھوں کا بھاری نقصان ہے مگر ان کے لئے موجودہ حالات میں اس کے سوا چارہ نہیں کہ اس نقصان کو برداشت کر کے بھی اپنے آپ کو مسلمانوں کے مظالم کے خلاف وقتی طور پر محفوظ کر لیں۔اور پھر بقول ایڈیٹر صاحب شیر پنجاب“ گویا زیادہ منظم ہو کر اور زیادہ طاقت پیدا کر کے اپنے کھوئے ہوئے حقوق کو واپس حاصل کریں۔ٹھیک جس طرح پیغمبر اسلام نے مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ میں پناہ لی تھی۔اور پھر اپنی طاقت کو زیادہ مضبوط کر کے مکہ کو دوبارہ فتح کیا تھا۔اس ضمن میں شیر پنجاب نے احمد یہ جماعت کو وہ مظالم بھی یاد دلائے ہیں۔جو مسلمانوں کی طرف سے ان پر کئے جاتے رہے ہیں۔اور اس کے ساتھ لطیفہ کے طور پر یہ طعنہ بھی دیا ہے کہ تم لوگ بے شک اپنے زخموں کو کسی قدر پرانا ہونے کی وجہ سے بھول چکے ہوں گے مگر ہم لوگ اپنے تازہ اور گہرے زخم ایسی جلدی نہیں بھلا سکتے۔شیر پنجاب کے ان دو اعتراضوں کے اندر جو درد و الم کا عنصر جھلک رہا ہے ، اس کے ساتھ ہر شریف انسان اصولاً همدردی محسوس کرے گا۔مگر افسوس ہے کہ گہرے اور ٹھنڈے مطالعہ کے نتیجہ میں ان اعتراضوں کی منطق ہرگز قابل قبول نہیں سمجھی جا سکتی۔اور اگر ایڈیٹر صاحب شیر پنجاب میرے مضمون کا ذرا زیادہ غور سے مطالعہ فرماتے تو اس کے اندر ہی کم از کم ان کے پہلے اعتراض کا کافی وشافی جواب موجود تھا۔مثلاً اپنے مضمون میں مسلمانوں کے مظالم کے متعلق میں نے لکھا تھا کہ : " کہا جا سکتا ہے کہ گذشتہ فسادات میں سکھوں کو مسلمانوں کے ہاتھوں نقصان پہنچا