مضامین بشیر (جلد 2) — Page 993
۹۹۳ مضامین بشیر سے ڈھانک لیا اگر چہرہ پردہ کے احکام میں شامل نہیں اور اسلام عورتوں کو غیر محرم مردوں کے سامنے چہرہ کو چھپانے کا حکم نہیں دیتا بلکہ اسے نگار کھنے کی اجازت دیتا ہے تو حضرت عائشہ ( ہاں وہی عائشہ رضی اللہ عنہا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تربیت یافتہ اور آپ کی تعلیم سے واقف ترین بیوی تھیں ) یہ کس طرح فرما سکتی تھیں کہ میں نے صفوان کو دیکھتے ہی اپنا چہرہ اپنی چادر سے ڈھانک لیا ؟ اور یا درکھنا چاہئیے۔جلباب (یعنی چادر ) کا لفظ جو اس حدیث میں بیان ہوا ہے۔عربی زبان میں اوڑھنی یعنی دو پٹہ کے لئے نہیں بولا جاتا جو عورت کے زینت والے لباس کا حصہ ہوتا ہے بلکہ اس سادہ چادر کے لئے بولا جاتا ہے جو پردہ کی خاطر سارے لباس کے اوپر لیٹی جاتی ہے۔بہر حال حضرت عائشہ کے یہ الفاظ کہ میں نے صفوان کو دیکھ کر اپنا چہرہ اپنی چادر سے ڈھانک لیا اس بات کا قطعی ثبوت ہیں کہ چہرہ اسلامی پردہ کے احکام میں شامل ہے اور یہ کہ ہر مسلمان عورت کا فرض ہے کہ غیر محرموں کے سامنے جاتے ہوئے اپنے چہرہ کو ڈھانک کر رکھے۔ย اس جگہ بعض لوگ یہ اعتراض پیش کیا کرتے ہیں کہ بعض روایتوں میں یہ ذکر آتا ہے کہ عورت کا چہرہ ان استثنائی اعضاء میں شامل ہے جن کی طرف قرآنی آیت إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ( یعنی وہ حصہ جو مجبوراً ظاہر کرنا پڑے ) میں اشارہ کیا گیا ہے۔اس لئے چہرہ کا پردہ ضروری نہیں مگر یہ استدلال بالکل غلط اور باطل ہے کیونکہ اول تو یہ روایتیں جو زیادہ تر مفسرین کے اقوال پر مبنی ہیں۔بخاری کی اس پختہ اور صحیح حدیث کے مقابلہ پر کوئی وزن نہیں رکھتیں جو خود حضرت عائشہ کی زبانی اوپر درج کی گئی ہے۔علاوہ ازیں اس بات پر غور نہیں کیا گیا کہ عربی کے مسلمہ محاورہ کے مطابق وجھ ( یعنی چہرہ ) کا لفظ کل چہرہ اور اس کے جزو دونوں پر بولا جاتا ہے۔چنانچہ علم معانی و بلاغت میں یہ عام اصول تسلیم کیا گیا ہے کہ بعض اوقات ایک لفظ جو ایک خاص مفہوم کے لئے وضع ہوتا ہے وہ کبھی زبان کی وسعت کے لحاظ سے اس کے جزو پر بھی بول دیا جاتا ہے اور عربی میں اس کی بکثرت مثالیں ملتی ہیں ( دیکھو مختصر معانی وغیرہ ) پس جو روایتیں وجہ ( یعنی چہرہ ) کو إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا کی استنثی میں شامل قرار دیتی ہیں۔ان میں بھی لازماً چہرہ سے چہرہ کا جزو مراد لیا جائے گا نہ کہ سارا چہرہ اور اس صورت میں اس استثناء کا منشاء صرف یہ سمجھا جائے گا۔کہ حسب ضرورت عورت رستہ دیکھنے کے لئے اپنی آنکھوں کو اور سانس لینے کے لئے اپنے ناک یا منہ کے دہانہ کو کھلا رکھ سکتی ہے۔مگر بہر حال یہ بات بالکل غلط اور باطل ہے کہ سارا چہرہ پردہ سے مستثنیٰ ہے۔کیونکہ اگر اسے درست مانا جائے تو پردہ کچھ رہتا ہی نہیں بلکہ ایک محض مذاق بن جاتا ہے۔سوچو اور غور کرو کہ کیا پردہ کے احکام سے پہلے مسلمان عورتیں نعوذ باللہ منگی اور بے لباس پھر تی تھیں کہ انہیں پردہ کا حکم دے کر یہ سمجھایا گیا کہ جسم ڈھانک لیا کر و مگر چہرہ بے شک ننگا رکھو ؟