مضامین بشیر (جلد 1) — Page 432
مضامین بشیر ۴۳۲ گئے بلکہ کسی شخص کی بجائے ایک شخص کے الفاظ رکھے گئے ہیں جو اُردو کے عام محا درہ میں صرف معلوم الاسم شخص کی صورت میں بولے جاتے ہیں۔علاوہ ازیں اگر یہ شخص حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو معلوم نہ ہوتا تو جیسا کہ آپ کا طریق تھا، آپ اس الہام کی تشریح میں اس قسم کے الفاظ زیادہ فرما دیتے کہ معلوم نہیں یہ الہام کس شخص کے متعلق ہے یا یہ کہ اس الہام کی کوئی تفہیم نہیں ہوئی۔وغیرہ ذالک مگر آپ نے ایسے کوئی الفاظ نہیں لکھے۔جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کو معلوم تھا کہ یہ الفاظ فلاں شخص کے متعلق ہیں۔اسی طرح آپ کی تشریح عبارت کا مجموعی اسلوب بھی اسی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ یہ شخص آپ کے نزدیک معلوم و معروف ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس شخص کا نام معلوم ہونے کے باوجود اسے ظاہر کیوں نہیں کیا ، تا کہ الہام کی صداقت یا عدم صداقت کو پر کھا جاسکتا تو اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک سابقہ الہام میں اس الہام کی تشریح موجود تھی اور دونوں الہا موں کے ملانے سے بات واضح ہو جاتی تھی ، اس لئے آپ نے دانستہ اس الہام کی مزید تشریح سے احتراز فرمایا تا کہ سمجھنے والے سمجھ بھی جائیں اور کسی شخص کی بلا وجہ دلآزاری بھی نہ ہو اور وہ سابقہ الہام یہ ہے :- يَمُوتُ ويُبقَى مِنْهُ كِلَابٌ مُتَعَدِّدَةٌ ل یعنی یہ شخص ( جس کا اوپر کی عبارت میں ذکر موجود ہے ) مرے گا اور اس کے پیچھے کئی کتے کی سیرت رکھنے والے لوگ جو اس کے ہم رنگ ہوں گے باقی رہ جائیں گئے الہام پورا ہو چکا یہ سابقہ الہام بعد والے الہام سے کافی عرصہ پہلے یعنی ۱۸۸۶ء میں ہوا تھا۔پس جبکہ الہام كَلْبٌ يَمُوتُ عَلیٰ كَلْبِ سے پہلے ایک واضح الہام ایک معین شخص کے متعلق ہو چکا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس پہلے الہام کی تشریح میں اس شخص کا نام لے کر ذکر فرما چکے تھے تو ان حالات میں یہ ہرگز ضروری نہیں تھا کہ دوسرے الہام کی تشریح میں اس کا نام لے کر بلا وجہ دل آزاری کی جاتی۔پس جس طرح کہ خدا تعالیٰ نے دوسرے الہام میں نام لینے کے بغیر صرف اشارہ سے ذکر فرمایا۔اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی صرف اشارہ پر اکتفا کی اور پہلے الہام کی اجمالی تصریح کو کافی خیال کرتے ہوئے مزید تشریح نہیں فرمائی۔چنانچہ دنیا دیکھ چکی ہے کہ یہ ہر دو الہام اپنی پوری شان کے ساتھ پورے ہوئے اور مرنے والا باون سال کی عمر میں مرکز را ہی ملک بقا ہو گیا اور