مضامین بشیر (جلد 1) — Page 433
۴۳۳ مضامین بشیر اس کے پیچھے کئی بھونکنے والے کتے اب تک بھونک بھونک کر دنیا کو ان الہاموں کی صداقت کی طرف توجہ دلا رہے ہیں ( مزید تشریح کی طرف دیکھو تذکرہ صفحہ ۱۰۸) اہل پیغام کی طرف سے انتہائی دل آزاری خیر یہ تو جو کچھ تقدیر الہی کے ماتحت ہونا تھا وہ ہو گیا مگر اہل پیغام کی جسارت اور انتہائی دل آزاری ملاحظہ ہو کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس الہام کو کہ كَلْبٌ يَمُوتُ عَلى گلب حضرت امیر المومنین خلیفہ امسیح الثانی پر چسپاں کر کے یہ خوشی منا رہے تھے کہ نعوذ باللہ اس الہام میں کلب سے مراد حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ہیں اور یہ کہ آپ کی وفات آپ کی عمر کے باون سال کے اندر اندر وقوع میں آجائے گی۔آغاز اس فتنہ کا اس طرح ہوا کہ ایک صاحب شیخ غلام محمد جو مصلح موعود ہونے کے مدعی ہیں اور پہلے اہل پیغام کے ساتھ تعلق رکھتے تھے اور اب ادھر سے الگ ہو کر جماعت مبایعین اور غیر مبایعین ہر دو کو اپنے مطاعن کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔انھوں نے اپنی مخصوص دماغی کیفیت سے متاثر ہو کر یہ آواز اٹھائی کہ كَلْبٌ يَمُوتُ عَلَىٰ کلب کا الہام حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے متعلق ہے اور یہ کہ آپ اس الہام کے مطابق باون سال کی عمر کے اندر اندر ہلاک ہو جائیں گے۔گو پردہ رکھنے کے لئے یہ بھی لکھ دیا معلوم نہیں اس سے جسمانی ہلاکت مراد ہے یا کہ مقاصد کی موت سے۔اس مجنونا نہ بڑ کو اپنے مفید مطلب پا کر غیر مبایعین نے بھی ہوشیاری کے ساتھ اپنا پہلو بچاتے مونہ چھپاتے ہوئے اس مکروہ پر و پیگینڈا میں اپنے ہاتھ رنگنے شروع کر دیے اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کو ایک ایسے الہام کا نشانہ نا چاہا جو ایک اشد ترین معاند سلسلہ اور دشمن خدا سے تعلق رکھتا تھا۔بنانا ج خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے غیر مبایعین کا انتہائی عناد اس گندے اور نا پاک پرو پیگنڈے کا نتیجہ تو وہی ہوا کہ جو ہونا تھا کہ فَإِنَّ حِزْبَ اللهِ هُمُ الْغَالِبُونَ آے کے فرمان کے مطابق ان لوگوں کی ساری امیدیں خاک میں مل گئیں کیونکہ آج خدا کے فضل سے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جو ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء کو پیدا ہوئے تھے اپنی عمر کے باون سال مکمل کر کے علی انف اعداء ترپن سال کے آغاز میں کامرانی و با مرادی کا پر چم لہراتے ہوئے قدم رکھ رہے ہیں مگر غیر مبایعین نے جواب تک بھی بظاہر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت اور غلامی کا دم بھرتے ہیں۔یہ بات ثابت کر دی ہے کہ انہیں حضرت مسیح موعود