مضامین بشیر (جلد 1) — Page 295
۲۹۵ أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالَا قُرَبِينَ - ۲۲ ترجمہ : یعنی اے مومنو! تم دُنیا میں عدل وانصاف کے قائم کرنے کے درپے رہو۔اور خدا کی خاطر ہمیشہ سچی شہادت دیا کرو خواہ تمہیں خود اپنے نفس کے خلاف شہادت دینی پڑے یا اپنے والدین کے خلاف دینی پڑے یا دوسرے عزیزوں اور دوستوں کے خلاف دینی پڑے۔- وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ - ٢٣ ترجمہ : یعنی سچے مومن وہ ہیں جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔- وَلَا يَجْرِ مَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُو اعْدِلُوا هُوَ اَقْرَبُ للتقوى - ۲۴ و ترجمہ: یعنی اے مسلمانو ! چاہیئے کہ تمہیں کسی فریق کی دشمنی اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم اس کے معاملہ میں عدل وانصاف کو چھوڑ دو بلکہ تمہیں چاہیئے کہ ہر حال میں عدل و انصاف سے کام لو کیونکہ یہی تقویٰ کا تقاضا ہے۔شہادت کو خراب کرنے والی باتیں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دُنیا میں شہادت کو خراب کرنے والی چار باتیں ہیں : اول : بے جا محبت دوم : بے جا عداوت مضامین بشیر سوم : بے جالا لج چہارم : بے جاؤر یعنی کبھی تو انسان کسی عزیز یا دوست کی بے جا محبت کی وجہ سے اپنی شہادت کو بدل دیتا ہے اور کبھی کسی دشمن کی بے جا عداوت سے متاثر ہو کر اپنی شہادت میں جھوٹ کو راہ دے دیتا ہے اور کبھی رکسی لالچ کے اثر کے نیچے آ کر حق کو چھپانے کا طریق اختیار کرتا ہے اور کبھی کسی کے ڈر کی وجہ سے صداقت پر پردہ ڈال دیتا ہے۔ان چار موجبات کے علاوہ دُنیا میں شہادت کو خراب کرنے کا اور کوئی باعث نہیں ہے۔یعنی شہادت کے معاملہ میں سارا فسادا نہی چار جذبات کے بے جا استعمال سے پیدا ہوتا ہے۔مثلاً زید اپنے ایک دوست یا عزیز کے مقدمہ میں بطور گواہ بلایا جاتا ہے اور عدالت کے سامنے جا کر اس دوست یا عزیز کی محبت کی وجہ سے جھوٹی گواہی دے آتا ہے یا بکر اپنے کسی دشمن کے مقدمہ