مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 222 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 222

مضامین بشیر ۲۲۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تاریخ پیدائش معین ہوگئی ۱۴ شوال ۱۲۵۰ ہجری مطابق ۱۳ فروری ۱۸۳۵ء بروز جمعه حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تاریخ پیدائش اور عمر بوقت وفات کا سوال ایک عرصے سے زیر غور چلا آتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تصریح فرمائی ہے کہ حضور کی تاریخ پیدائش معین صورت میں محفوظ نہیں ہے۔اور آپ کی عمر کا صحیح اندازہ معلوم نہیں۔کیونکہ آپ کی پیدائش سکھوں کی حکومت کے زمانہ میں ہوئی تھی۔جبکہ پیدائشوں کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھا جاتا تھا۔البتہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بعض ایسے امور بیان فرمائے ہیں جن سے ایک حد تک آپ کی عمر کی تعیین کی جاتی رہی ہے۔ان اندازوں میں سے بعض اندازوں کے لحاظ سے آپ کی پیدائش کا سال ۱۸۴۰ء بنتا ہے اور بعض کے لحاظ سے ۱۸۳۱ء تک پہنچتا ہے اور اسی لئے یہ سوال ابھی تک زیر بحث چلا آیا ہے کہ صحیح تاریخ پیدائش کیا ہے۔میں نے اس معاملہ میں کئی جہت سے غور کیا ہے اور اپنے اندازوں کو سیرۃ المہدی کے مختلف حصوں میں بیان کیا ہے۔لیکن حق یہ ہے کہ گو مجھے یہ خیال غالب رہا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیدائش کا سال ۱۸۳۶ عیسوی یا اس کے قریب قریب ہے مگر ابھی تک کوئی معین تاریخ معلوم نہیں کی جاسکی تھی۔لیکن اب بعض حوالے اور بعض روایات ایسی ملی ہیں جن سے یقینی طور پر معین تاریخ کا پتہ لگ گیا ہے جو بروز جمعہ ۱۴ شوال ۱۲۵۰ ہجری مطابق ۱۳ فروری ۱۸۳۵ عیسوی مطابق یکم پچھا گن ۱۸۹۱ بکرمی ہے۔اس تعیین کی وجوہ یہ ہیں : (۱) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تعیین اور تصریح کے ساتھ لکھا ہے جس میں کسی غلطی یا غلط فہمی کی گنجائش نہیں کہ میری پیدائش جمعہ کے دن چاند کی چودھویں تاریخ کو ہوئی تھی سے (۲) ایک زبانی روایت کے ذریعہ جو مجھے مکرمی مفتی محمد صادق صاحب کے واسطہ سے پہنچی ہے اور جو مفتی صاحب موصوف نے اپنے پاس لکھ کر محفوظ کی ہوئی ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ ہندی مہینوں کے لحاظ سے میری پیدائش پھاگن کے مہینہ میں ہوئی تھی۔