مضامین بشیر (جلد 1) — Page 202
مضامین بشیر ۲۰۲ سردی زیادہ پڑتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آخر جنوری میں بہار کا آغاز تحریر فرمایا لیکن چونکہ خدا کے علم میں یہ تھا کہ یہ زلزلہ صوبہ بہار و بنگال میں آئے گا۔جہاں سردی کی کمی کی وجہ سے بہار کا آغا ز طبعا کسی قدر پہلے ہوتا ہے اس لئے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے زلزلہ کا زمانہ بیان کر کے لوگوں کو ہوشیار کیا ہے وہاں بجائے آخر جنوری کے عملاً سارے ماہ جنوری کو اس میں شامل کر لیا ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں کہ۔اسی مہینہ ( یعنی جنوری ) سے خوف کے دن شروع ہوں گے۔‘۸ کے اور پھر اس پیش گوئی میں خدا تعالیٰ کی ایک مزید قدرت نمائی یہ ہے جس سے پیشگوئی کی شان اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ جب ۲۸ جنوری ۱۹۰۶ ء کو پنجاب میں ایک درمیانے درجہ کا زلزلہ آیا تو چونکہ وہ بھی بہار کے موسم میں تھا اور اپنی وسعت کے لحاظ سے یہ الہام اس پر بھی چسپاں ہوتا تھا۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے اس زلزلہ پر چسپاں کر دیا مگر فوراً ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نازل ہوئی کہ : - زلزلہ آنے کو ہے۔۷۹ اور خدا تعالیٰ نے خود حضرت مسیح موعود کے قلم سے یہ تشریح کروائی کہ اس زلزلہ کو جو ( ۲۸ فروری کو ) ہوا۔اصل زلزلہ نہ سمجھو بلکہ سخت زلزلہ آنے کو ہے۔یعنی آگے چل کر آئے گا۔اور آپ نے لکھا کہ یہ تشریح میری طرف سے نہیں بلکہ خدا کی طرف سے ” میرے دل میں ڈالا گیا کہ وہ زلزلہ جو قیامت کا نمونہ ہے وہ ابھی آیا نہیں بلکہ آنے کو ہے“۔۸۰ الغرض جیسا کہ خدائی وعدہ تھا۔یہ زلزلہ عین بہار کے موسم میں جبکہ بنگال و بہار میں شگوفہ پھوٹ رہا تھا، وقوع پذیر ہوا اور خدا کی یہ پیش گوئی اپنے پورے جلال کے ساتھ پوری ہوئی کہ ایک تباہ کن زلزلہ بہار کے موسم میں آئے گا اور یہ بہار وہ ہوگی جو نادر شاہ بادشاہ افغانستان کے قتل کے بعد آئے گی اب چاہو تو قبول کرو۔یہ زلزلہ ہندوستان کے شمال مشرق میں آنا تھا چوتھی علامت یہ مقرر کی گئی تھی کہ یہ زلزلہ ہندوستان کے شمال مشرق میں آئے گا۔چنانچہ اس