مضامین بشیر (جلد 1) — Page 201
۲۰۱ مضامین بشیر کے پیچھے پیچھے موعود زلزلہ آن پہنچا۔جس کی آنکھیں ہوں دیکھے۔وما علینا الا البلاغ یہ زلزلہ بہار کے موسم میں مقدر تھا تیسری علامت یہ بیان کی گئی تھی کہ یہ زلزلہ بہار کے موسم میں آئے گا۔چنانچہ اس بارے میں جو الهام حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نازل ہوا وہ اوپر کی بحث میں درج کیا جا چکا ہے۔جو یہ ہے :- پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی۔۶ کے و اس کی تشریح میں حضرت مسیح موعود تحریر فرماتے ہیں کہ : - چونکہ پہلا زلزلہ بھی (جو ۴ اپریل ۱۹۰۵ء کو آیا ) بہار کے ایام میں تھا۔اس لئے خدا نے خبر دی کہ وہ دوسرا زلزلہ بھی بہار میں ہی آئے گا۔اور چونکہ آخر جنوری میں بعض درختوں کا پتہ نکلنا شروع ہو جاتا ہے اس لئے اسی مہینہ سے خوف کے دن شروع ہوں گے اور غالبا مئی کے اخیر تک وہ دن رہیں گے۔۔۔مجھے معلوم نہیں کہ بہار کے دنوں سے مراد یہی بہار کے دن ہیں جو اس جاڑے کے گزرنے کے بعد آنے والے ہیں یا اور کسی اور وقت پر اس پیش گوئی کا ظہور موقوف ہے جو بہار کا وقت ہوگا۔بہر حال خدا تعالیٰ کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہار کے دن ہوں گے خواہ کوئی بہار ہو۔کے اب دیکھو کہ مندجہ بالا الہام میں اللہ تعالیٰ نے کس صراحت کے ساتھ یہ فرما دیا ہے کہ :- آئندہ تباہ کن زلزلہ بہار کے موسم میں آئے گا اور حضرت مسیح موعود نے بھی یہ صراحت کر دی ہے کہ بہار سے لازماً مراد اس الہام کے معاً بعد آنے والی بہار مراد نہیں ہے بلکہ مطلقاً بہار کا موسم مراد ہے۔خواہ وہ کوئی بہار ہو اور کتنے سالوں کے بعد آئے لیکن جیسا کہ اوپر کی بحث میں بتایا جا چکا ہے۔خدا کے علم میں ابتداء سے یہی تھا کہ اس بہار سے وہ بہار مراد ہے جو کنگ نادرشاہ کے واقعہ قتل کے بعد پیش آئے گی۔الغرض اس زلزلہ کی علامات میں سے ایک علامت یہ تھی کہ وہ نادرشاہ کے قتل کے بعد بہار کے موسم میں آئے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ ۱۵/جنوری ۱۹۳۴ء کا زلزلہ عین بہار کی ابتدا میں آیا اور حضرت مسیح موعود کی پیش گوئی حرف بحرف پوری ہوئی“۔اور ایک نکتہ اس پیش گوئی میں یہ ہے کہ گو پنجاب کے حالات کے لحاظ سے جہاں