مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 186 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 186

مضامین بشیر ۱۸۶ گی۔۱۵/جنوری ۱۹۳۴ء والے زلزلے سے پہلے بھی ملک کے مختلف حصوں میں طغیانیاں آئیں۔چنانچہ اس بارے میں یہ الہام الہی اوپر درج ہو چکا ہے کہ : - دو صحن میں ندیاں چلیں گی اور سخت زلزلے آئیں گے ۴۰۰ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس الہام کی تشریح فرماتے ہوئے لکھا تھا کہ : - ”میرے پر خدا نے الہامیہ ظاہر کیا تھا کہ سخت بارشیں ہونگی اور گھروں میں ندیاں چلیں گی اور بعد اس کے سخت زلزلے آئیں گئے۔اے سو ہم دیکھتے ہیں کہ یہ علامت بھی ۱۵ / جنوری والے زلزلہ میں لفظ بلفظ پوری ہوئی کیونکہ جیسا کہ سب لوگ جانتے ہیں کہ گزشتہ موسم برسات کے آخر میں ملک کے کئی حصوں میں نہایت سخت طغیانیاں آئیں۔چنانچہ رہتک صوبہ پنجاب، دریائے گومتی کی وادی ، صوبہ یو۔پی ، مدنا پور کا علاقہ صوبہ بنگال ، اور اڑیسہ صوبہ بہار میں ۱۹۳۳ء کے آخر میں جو تباہ کن طغیانیاں آئیں۔وہ کسی سے مخفی نہیں ہیں۔گویا اس زلزلہ میں وہ دونوں علامتیں پوری ہوئیں جو پہلے سے بتا دی گئی تھیں۔یعنے اول یہ کہ زلزلہ سے پہلے مختلف حصوں میں تباہ کن طغیانیاں آئیں۔جن سے صحنوں میں ندیاں چل گئیں اور دوسرے یہ کہ اس خاص زلزلہ میں زلزلہ کے دھکوں سے جگہ بہ جگہ زمین کا پھٹ کر اندر کا پانی جوش مارتا ہوا باہر نکل آیا اور ایک خطر ناک سیلاب کی صورت پیدا ہوگئی اور اسطرح وہ پیش گوئی حرف بحرف پوری ہوئی کہ اس زلزلہ کے ساتھ پانی کا سیلاب بھی ہوگا اور زلزلے کے دھکے اور پانی کی تباہی دونوں مل کر تباہی کے ہیبت ناک منظر کو پورا کریں گے۔جان و مال کا بے انداز نقصان باقی رہا جان و مال کا نقصان جو اس زلزلہ کے نتیجہ میں ہوا۔سو اس کی داستان ایک خون کے آنسو رلانے والی داستان ہے۔جانی نقصان کا تو ابھی صحیح اندازہ لگ ہی نہیں سکا۔گورنمنٹ نے اپنی طرف سے وقتاً فوقتاً اندازے شائع کئے اور ہزاروں جانوں کا نقصان بتایا مگر بعد میں ہر اندازے کی تردید ہو گئی اور صحیح اندازہ لگ بھی کس طرح سکتا ہے۔جبکہ ابھی ہزار ہا مکانوں کا ملبہ اسی طرح ڈھیروں کی صورت میں پڑا ہے اور کچھ خبر نہیں کہ ان کے نیچے کتنی جانیں دبی پڑی ہیں۔اور مالی نقصان کا تو یہ حال ہے کہ شہروں کے شہر صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں اور سوائے مٹی کے ڈھیر کے کچھ نظر نہیں آتا۔غریبوں کے گھر امیروں کے مکانات راجوں ، مہاراجوں کی کوٹھیاں ، بادشاہوں کے محل ، گورنمنٹ کی عمارات ، کارخانے ، پل ، دوکانیں ، بازار ، منڈیاں وغیرہ سب خاک میں مل گئے ہیں۔اور سیلاب