مضامین بشیر (جلد 1) — Page 185
۱۸۵ مضامین بشیر سونے والو جلد جاگو یہ نہ وقت خواب ہے جو خبر دی وحتی حق نے اس سے دل بیتاب ہے زلزلہ سے دیکھتا ہوں میں زمین زیر و زبر وقت اب نزدیک ہے آیا کھڑا سیلاب ہے ۳۷ اس مکاشفہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام صاف الفاظ میں بیان فرماتے ہیں۔ایک خطرناک زلزلہ آنے والا ہے جس سے زمین زیر وزبر ہو جائے گی اور اس زلزلہ کے ساتھ پانی کا سیلاب بھی ہوگا۔عام حالات کے لحاظ سے یہ ایک عجوبہ بات نظر آتی ہے کہ زلزلہ اور سیلاب ایک جگہ جمع ہوں مگر خدا کے مسیح نے یہ بتا رکھا تھا کہ وقت آتا ہے کہ یہ دونوں تباہیاں ایک جگہ جمع ہوں گی۔اس مکاشفہ میں یہ بھی اشارہ ہے کہ پہلے زلزلہ آئے گا اور پھر اس کے بعد پانی کا سیلاب آئے گا مگر ساتھ ہی دونوں کو اکٹھا کر کے یہ بھی ظاہر فرما دیا گیا ہے کہ یہ نہ سمجھو کہ یہ دونوں الگ الگ حادثات ہیں بلکہ اصل میں دونوں ایک ہی چیز ہیں مگر ان کا ظہور ایک دوسرے کے ساتھ آگے پیچھے ہوگا۔اب دیکھ لو کہ ۱۵/ جنوری ۱۹۳۴ء کو صوبہ بہار میں بعنیہ اس کے مطابق واقعہ ہوا یعنے پہلے زلزلہ آیا اور اس سے زمین زیروز بر ہوگئی اور پھر اس کے بعد زمین اچھٹنے سے اس کے اندر کا پانی جوش مارتا ہوا باہر نکلا۔جس سے میل ہامیل تک کا علاقہ پانی میں غرق ہو کر یوں نظر آنے لگا جیسے کوئی سمندر ہے۔چنانچہ ہندوستان کا مشہور انگریزی اخبار سٹیٹسمین لکھتا ہے :۔اس زلزلہ کے دھکوں سے کئی جگہوں پر زمین پھٹ پھٹ کر بڑے بڑے غار پڑ گئے اور زمین کے اندر کا پانی جوش مارتا ہوا باہر نکل آیا جس سے اب سا را علاقہ 66 غرقاب ہے۔۳۸ لا ہور کا ایک اخبار ”زمیندار“ رقمطراز ہے کہ :- اس زلزلہ کے نتیجہ میں زمین کے پھٹ جانے کی وجہ سے پانی کے چشمے اہل رہے ہیں۔اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ طغیانی آگئی ہے۔تمام شہر پانی کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمند رنظر آتا ہے“۔۳۹ زمین کے پھٹنے سے جو سیلاب آیا۔اس کے علاوہ زلزلہ کے بعد اس علاقہ میں سخت بارش بھی ہوئی۔گو یا اوپر اور نیچے دونوں طرف سے زلزلہ کی مصاحبت کے لئے پانی آموجود ہوا۔اور خدا کی قدرت نمائی کا مزید کرشمہ یہ ہے کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض الہامات میں یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ بعض زلزلے ایسے بھی آئیں گے کہ ان سے پہلے ملک میں سخت طغیانیاں آچکی ہوں