مضامین بشیر (جلد 1) — Page 11
مضامین بشیر رکن سمجھا جاتا تھا اسلام سے خارج بتایا ہے۔ایسے اور بھی بہت سے حوالے ہیں مگر اس مختصر سے مضمون میں ان کی گنجائش نہیں۔اس قسم کے حوالوں کے مقابلہ میں دوسری قسم کے بھی بیسیوں حوالے ہیں۔جن کو عند الضرورت پیش کیا جا سکتا ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حقیقت کی رو سے ہمیشہ اپنے منکروں کو اسلام سے باہر قدم رکھنے والے سمجھا ہے مگر ہاں اتمی اور رسمی طور پر ان کو مسلمان بھی کہا اور لکھا ہے۔اس حقیقت کو حضرت مسیح موعود کا ایک الہام بھی خوب واضح کر رہا ہے۔جو یہ ہے۔چو دورِ خسروی آغاز کردند دو مسلمان را مسلمان باز کردند ! اس میں جناب باری تعالیٰ نے غیر احمدیوں کو صاف طور پر مسلمان بھی کہا ہے۔اور پھر صاف طور پر ان کے اسلام کا انکار بھی کیا ہے۔پس اب ہم مجبور ہیں کہ غیر احمد یوں کو عام طور پر ذکر کرتے ہوئے مسلمان کے نام سے یاد کریں۔کیونکہ کلام الہی صاف طور پر حضرت مسیح موعود کے منکروں کو مسلمان کے نام سے پکار رہا ہے۔اسی طرح اب خواہ کوئی کتنا ہی بڑا انسان غیر احمدیوں کو مسلمان سمجھے۔ہم مجبور ہیں کہ اس کی ایک نہ سنیں کیونکہ وہی کلام الہی واضح اور غیر تاویل طلب الفاظ میں ان کے اسلام کا انکار کر رہا ہے۔فتدبرو غیر احمد یوں کا کفر اب میں مضمون کی دوسری شق کو لیتا ہوں اور وہ یہ کہ حضرت مسیح موعود کے منکروں پر کس قسم کا کفر عاید ہوتا ہے۔سواس کے متعلق جہاں تک قرآن شریف کی آیتوں اور حضرت مسیح موعود کی تحریروں اور احادیث نبوی سے پتہ چلتا ہے وہ یہی ہے کہ حضرت مسیح موعود کا منکر اسی طرح الہی مؤاخذہ کے نیچے ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کے دیگر رسولوں کے منکرین ہیں کیونکہ باری تعالیٰ کی طرف سے جتنے بھی مامورین آتے ہیں ان کا مقصد اعلیٰ یہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی پر لوگوں کی طرف سے صرف زبانی اقرار نہ ہو بلکہ ایمان ویقین کے درجہ تک پہنچ کر مخلوق خدا کے رگ وریشہ میں رچ جائے اور انسان کا عرفان ذات حق تعالیٰ کے متعلق اس قدر مستحکم ہو جائے کہ خدا تعالیٰ کا صفاتی وجود ہر جگہ محسوس و مشہور ہو کیونکہ اس کے بغیر گناہ سے چھٹکارہ نہیں اور گناہ سے پاک ہونے کے بغیر نجات نہیں۔یہ غلط ہے کہ سب رسولوں کا نئی شریعت لانا ضروری ہے۔بنی اسرائیل میں موسیٰ علیہ السلام کے بعد سینکڑوں ایسے نبی ہوئے جن کو کوئی شریعت نہیں دی گئی بلکہ وہ تو ریت کے خادم تھے۔خود حضرت مسیح موعود نے